فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی امریکی صدر سے ملاقات کیسے ارینج کی گئی
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
لندن (نیوز ڈیسک) وائٹ ہاؤس میں امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے درمیان ظہرانے کی ملاقات اور بعدازاں اوول آفس کا دورہ، وقت، اہمیت اور شدت کے لحاظ سے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں تہلکہ خیز قرار دیا جا رہا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور صدر ٹرمپ کی یہ ملاقات ایک گھنٹے کی طے تھی مگر دو گھنٹے سے زائد جاری رہی۔ اسے ایک غیر معمولی اور تاریخی واقعہ سمجھا جا رہا ہے۔ اس ملاقات کے انتظام کیلئے کئی افراد نے پسِ پردہ اہم کردار ادا کیا جس کا مقصد دونوں ممالک کے تعلقات کو بہتر بنانا تھا۔ یہ ملاقات نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر اور پاکستان کی اندرونی سیاست، بالخصوص تحریک انصاف کے حوالے سے اہمیت رکھتی ہے۔ اس نمائندے نے اس ملاقات کے انتظامات سے واقف تین معتبر ذرائع سے گفتگو کی۔ ذرائع کے مطابق، تین ہفتے قبل ایک اعلیٰ انٹیلی جنس افسر (میجر جنرل رینک) واشنگٹن پہنچے اور ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں، جس سے صدر ٹرمپ اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ملاقات کی راہ ہموار ہوئی۔ لیکن اصل پیشرفت اس وقت ہوئی جب صدر ٹرمپ کے قریبی اتحادی اور مشرقِ وسطیٰ کیلئے ان کے ایلچی اسٹیو ویٹکوف نے ذاتی حیثیت میں کوششیں کیں۔ ویٹکوف صدر ٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ملاقات کے دوران موجود تھے۔ اس ملاقات میں امریکی وزیر خارجہ سینیٹر مارکو روبیو اور پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر جنرل عاصم ملک بھی شریک تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ اس ملاقات کا انتظام مشرق وسطیٰ میں مقیم ایک پاکستانی نژاد کاروباری شخصیت نے کیا، جس کے ویٹکوف اور خلیجی شاہی خاندانوں سے قریبی تعلقات ہیں۔ متعدد فون کالز اور پریزنٹیشنز کے بعد بالآخر ملاقات کا وقت طے پایا۔ اس نمائندے کو ملاقات کے اعلان سے کم از کم 36؍ گھنٹے قبل ہی اس ملاقات کے انعقاد کی پیشگی اطلاع دی گئی تھی۔ پاکستانی انٹیلی جنس افسر نے کئی مرتبہ واشنگٹن جا کر امریکی حکام اور ٹرمپ کے قریبی سمجھے جانے والے پاکستانی نژاد افراد سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد صرف فیلڈ مارشل کے دورے کے حوالے سے بات چیت نہیں تھا بلکہ عمران خان کے حامیوں کی جانب سے امریکی سینیٹرز کی مدد سے چلائی جانے والی مہم کا توڑ بھی تھا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکا سے قبل متحدہ عرب امارات میں موجود تھے، جہاں سے وہ سینٹ کام کی دعوت پر امریکا روانہ ہوئے۔ ان کے طے شدہ شیڈول کے مطابق انہیں سینٹ کام اور پینٹاگون کے حکام سے ملاقاتیں کرنا تھیں لیکن ان کا پروگرام ان کی واشنگٹن آمد سے چند گھنٹے قبل اچانک تبدیل کر کے صدر ٹرمپ سے ملاقات بھی شیڈول میں شامل کر دی گئی۔ یہ سب کچھ پسِ پردہ سفارت کاری کا شاندار مظاہرہ تھا۔ امریکا اور پاکستان کے تعلقات میں یہ قربت اچانک پیدا نہیں ہوئی۔ چند ماہ قبل جب ڈونلڈ ٹرمپ بھاری اکثریت سے دوبارہ صدر منتخب ہوئے تو یہ خدشات تھے کہ وہ عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کریں گے یا پاکستان کے معاملات میں مداخلت کریں گے، لیکن اس کے برعکس جو ہوا وہ پاکستان کے مقتدر حلقوں کیلئے باعثِ اطمینان تھا۔ 15 جنوری 2025 کو اسی نمائندے نے انکشاف کیا تھا کہ ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے ایک ہیج فنڈ مینیجر اور ٹرمپ فیملی کے کاروباری شراکت دار نے دہشت گردی کیخلاف پاکستان کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے ٹرمپ کو پاکستان کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کا مشورہ دیا تھا۔ دو ہفتے بعد وہ اسلام آباد آئے اور وزیراعظم شہباز شریف سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ممکن ہے ٹرمپ کے قریبی ساتھی رچرڈ گرینل کو عمران خان کی رہائی سے متعلق مہم میں گمراہ کیا گیا ہو، جو امریکا میں سرگرم ایک لابی کا نتیجہ ہے۔ اس کے بعد دونوں ممالک کے نمائندوں اور حکام کے درمیان ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا، جن میں کرپٹو کرنسی، نایاب معدنیات، اور تجارتی تعاون پر بات چیت ہوئی۔ پاکستان اور امریکا کے بڑھتے تعلقات کی اگلی بڑی تصویر اس وقت سامنے آئی جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا اور صدر ٹرمپ نے غیر جانبدار رہتے ہوئے دونوں ممالک سے پیچھے ہٹنے کی اپیل کی، جس پر پاکستانی عوام نے انہیں سراہا جبکہ بھارتی حکومت اور مودی کے حامیوں نے تنقید کی۔ ذرائع کے مطابق، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور صدر ٹرمپ کی ٹیموں نے معدنیات، کرپٹو کرنسی، تیل و گیس کی تلاش، مائننگ، ڈیٹا سینٹرز، بٹ کوائن مائننگ، رئیل اسٹیٹ اور پاکستان کی برآمدات کے فروغ جیسے اہم امور پر اسٹریٹیجک اتحاد کی بات کی۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاکستان پاکستان کے سے ملاقات ملاقات کے اس ملاقات
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز