سپریم لیڈر منظوری دیں تو ایران 2 ہفتوں میں جوہری ہتھیار بنا سکتا ہے، ترجمان وائٹ ہاؤس
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
ترجمان نے ایران پر حملے کیلئے ٹرمپ کیجانب سے کانگریس سے منظوری لینے کے سوال کا جواب نہیں دیا گیا۔ ترجمان نے کہا کہ صدر ٹرمپ ہمیشہ سفارتی حل میں دلچسپی رکھتے ہیں، اگر سفارتکاری کا امکان ہو تو صدر ہمیشہ اسے ترجیح دینگے۔ اسلام ٹائمز۔ ترجمان وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ایران دو ہفتوں میں جوہری ہتھیار بنا سکتا ہے، اس کو صرف سپریم لیڈر کی منظوری چاہیئے۔ وائٹ ہاؤس ترجمان نے بتایا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار بنانے کیلئے سارے وسائل موجود ہیں اور وہ دو ہفتوں میں جوہری ہتھیار بنا لے گا۔ ترجمان وائٹ ہاؤس نے ایران پر حملے کے لیے ٹرمپ کی جانب سے کانگریس سے منظوری لینے کے سوال کا جواب نہیں دیا گیا۔ ترجمان نے کہا کہ صدر ٹرمپ ہمیشہ سفارتی حل میں دلچسپی رکھتے ہیں، اگر سفارت کاری کا امکان ہو تو صدر ہمیشہ اسے ترجیح دیں گے۔ ترجمان وائٹ ہاؤس کا مزید کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ طاقت کے استعمال سے بھی نہیں گھبرائیں گے۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ کو آج اسرائیلی آپریشن پر بریفنگ بھی دی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جوہری ہتھیار ترجمان وائٹ
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔