سپریم لیڈر کے مشیر علی شمخانی زندہ ہیں، ایرانی میڈیا نے اسرائیلی دعوے کو مسترد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تہران: ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے سینئر مشیر اور سابق اعلیٰ سیکیورٹی عہدیدار علی شمخانی کی زندگی سے متعلق افواہوں پر ایرانی میڈیا نے وضاحت جاری کرتے ہوئے اُن کے زندہ ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔
اسرائیل نے ایران پر اپنے پہلے روز کے حملوں کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ علی شمخانی حملے میں جاں بحق ہو چکے ہیں، تاہم ایرانی میڈیا نے اس دعوے کو گمراہ کن اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے بتایا ہے کہ علی شمخانی نہ صرف حیات ہیں بلکہ اُنہوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے جان دینے کو بھی تیار ہیں۔
رپورٹس کے مطابق علی شمخانی اسرائیلی فضائی حملے میں زخمی ضرور ہوئے تھے، مگر طبی عملے کی بروقت نگہداشت کے باعث اُن کی حالت اب خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
ایرانی ذرائع ابلاغ نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں اب تک ایران کے 250 سے زائد شہری، جن میں اعلیٰ فوجی کمانڈر، ایٹمی سائنسدان اور اہم حکومتی شخصیات شامل ہیں، شہید ہو چکے ہیں۔
دریں اثنا، تہران میں علی شمخانی کے حامیوں کی جانب سے ان کی خیریت کی خبروں پر اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے جب کہ ایران میں جاری کشیدگی کے باوجود عوامی جذبات قومی یکجہتی اور مزاحمت کے عزم کے ساتھ ابھر کر سامنے آ رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: علی شمخانی
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔