اسرائیلی جارحیت جاری رہی تو زیادہ خطرناک ردعمل آئے گا، ایران
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے حملے جاری رکھے تو ایران "زیادہ شدید اور افسوسناک ردعمل" دے گا۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں امن کا واحد راستہ یہی ہے کہ صہیونی ریاست اپنی جارحیت بند کرے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق صدر پزشکیان نے اپنے بیان میں کہا: "ہم نے ہمیشہ امن اور استحکام کا راستہ اپنایا ہے، لیکن موجودہ حالات میں پائیدار امن صرف اسی وقت ممکن ہے جب صہیونی دشمن اپنی دشمنی ترک کرے اور دہشتگردانہ اشتعال انگیزیوں کو ختم کرنے کی ٹھوس ضمانت دے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ اگر اسرائیل نے اپنے حملے بند نہ کیے تو ایران کی جانب سے "زیادہ شدید اور ناقابلِ تلافی ردعمل" دیا جائے گا، جس کے نتائج دشمن کے لیے افسوسناک ہوں گے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور فریقین کے درمیان مکمل جنگ کے خدشات بڑھ چکے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔