data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

تہران: ایران میں اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے مبینہ نیٹ ورک کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔

ایرانی حکام نے اسرائیلی خفیہ ادارے موساد سے تعلق رکھنے والے ایک اور ایجنٹ کی گرفتاری کی تصدیق کر دی ہے، جو ملکی دفاعی نظام سے متعلق انتہائی حساس معلومات اسرائیل کو فراہم کر رہا تھا۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق گرفتار جاسوس موبائل ایپلیکیشن واٹس ایپ کے ذریعے اسرائیلی حکام کو اہم سکیورٹی معلومات ارسال کر رہا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک موساد کے آٹھ ایجنٹوں کو ایران کے مختلف علاقوں سے حراست میں لیا جا چکا ہے، جن میں سے ایک کو عدالت کی جانب سے سزائے موت بھی دی جا چکی ہے۔

دوسری جانب خطے میں جاری کشیدگی کے دوران اسرائیل نے تہران پر حملے مزید تیز کر دیے ہیں۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے فوج کو حکم دیا ہے کہ وہ ایران کے سرکاری اداروں کو براہ راست نشانہ بنائیں تاکہ ایرانی حکومت کو غیر مستحکم کیا جا سکے۔

اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ حالیہ حملے میں ایران کا ایک اور نامور ایٹمی سائنسدان ہلاک ہو گیا ہے، تاہم ایرانی حکام کی جانب سے اس دعوے کی فوری تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔

ادھر ایرانی وزارت صحت نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی افواج نے تہران میں ایک سرکاری اسپتال پر راکٹ حملہ کیا، جس میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔

اس تمام صورتحال کے دوران اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے اپنے پرانے مؤقف سے ہٹتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کا اصل مقصد ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ اسے جوہری ہتھیاروں کے حصول اور میزائل پروگرام سے روکنا ہے۔ نیتن یاہو نے کہا کہ حکومت کی تبدیلی جنگ کا ایک ممکنہ نتیجہ ہو سکتی ہے، لیکن اسرائیل کا بنیادی ہدف یہ نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا

تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔

غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔

سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔

ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔

ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔

تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم