ایران میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کا ایک اور مبینہ جاسوس گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تہران: ایران میں اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے مبینہ نیٹ ورک کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔
ایرانی حکام نے اسرائیلی خفیہ ادارے موساد سے تعلق رکھنے والے ایک اور ایجنٹ کی گرفتاری کی تصدیق کر دی ہے، جو ملکی دفاعی نظام سے متعلق انتہائی حساس معلومات اسرائیل کو فراہم کر رہا تھا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق گرفتار جاسوس موبائل ایپلیکیشن واٹس ایپ کے ذریعے اسرائیلی حکام کو اہم سکیورٹی معلومات ارسال کر رہا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک موساد کے آٹھ ایجنٹوں کو ایران کے مختلف علاقوں سے حراست میں لیا جا چکا ہے، جن میں سے ایک کو عدالت کی جانب سے سزائے موت بھی دی جا چکی ہے۔
دوسری جانب خطے میں جاری کشیدگی کے دوران اسرائیل نے تہران پر حملے مزید تیز کر دیے ہیں۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے فوج کو حکم دیا ہے کہ وہ ایران کے سرکاری اداروں کو براہ راست نشانہ بنائیں تاکہ ایرانی حکومت کو غیر مستحکم کیا جا سکے۔
اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ حالیہ حملے میں ایران کا ایک اور نامور ایٹمی سائنسدان ہلاک ہو گیا ہے، تاہم ایرانی حکام کی جانب سے اس دعوے کی فوری تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔
ادھر ایرانی وزارت صحت نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی افواج نے تہران میں ایک سرکاری اسپتال پر راکٹ حملہ کیا، جس میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔
اس تمام صورتحال کے دوران اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے اپنے پرانے مؤقف سے ہٹتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کا اصل مقصد ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ اسے جوہری ہتھیاروں کے حصول اور میزائل پروگرام سے روکنا ہے۔ نیتن یاہو نے کہا کہ حکومت کی تبدیلی جنگ کا ایک ممکنہ نتیجہ ہو سکتی ہے، لیکن اسرائیل کا بنیادی ہدف یہ نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔