حماس اور ایران کے حملے، نیند کا بحران اور ذہنی دباؤ: اسرائیلیوں پر تحقیقاتی رپورٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
اسرائیلی شہریوں کو حماس اور ایران کے ساتھ جاری جنگوں کے دوران شدید ذہنی دباؤ اور نیند کی کمی کا سامنا ہے، جو ان کی صحت پر سنگین اثرات مرتب کررہا ہے۔
عالمی جریدے انٹرنیشنل جرنل آف کلینیکل اینڈ ہیلتھ سائیکالوجی میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق، 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد مسلسل راکٹ حملوں، میزائل فائرنگ اور ایمرجنسی سائرن نے اسرائیلی شہریوں کی نیند کے معیار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
تحقیق میں نیند کی شدید خرابی ظاہرعبرانی یونیورسٹی اور ہداسا میڈیکل سینٹر کے محققین کی جانب سے کی گئی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جنگی حالات میں شہری آبادی کی نیند کے پیٹرن پر یہ پہلی منظم تحقیق ہے۔
تحقیق کی سربراہ پروفیسر شوہم چوشن ہلیل کے مطابق دنیا بھر میں جنگ کے اثرات پر تحقیق زیادہ تر فوجیوں پر مرکوز ہوتی ہے، لیکن اسرائیل میں صورتحال مختلف ہے۔ ’روزانہ کے خطرے میں گھری ہوئی عام آبادی کی نیند پر تحقیق پہلے کبھی اس طرح نہیں کی گئی۔‘
9 ہزار افراد پر مشتمل تحقیقجنوری 2023 سے جنوری 2024 کے دوران کیے گئے تین مختلف سروے میں 9 ہزار افراد کی نیند کے معمولات کا تجزیہ کیا گیا، جن کے نتائج کے مطابق، 6 گھنٹے سے کم سونے والے افراد کا تناسب 13 فیصد سے بڑھ کر 31 فیصد ہوگیا جبکہ نیند کی عمومی خراب صحت کی شکایات 15 فیصد سے بڑھ کر 38 فیصد تک پہنچ گئیں۔
کلینیکل انسومنیا یعنی بےخوابی کے کیسز 4 فیصد سے بڑھ کر 20 فیصد ہوگئے، 48 فیصد افراد نے جنگ کے آغاز کے بعد نیند کے مسائل کی شکایت کی، جو کہ پہلے 18 فیصد تھے۔
پروفیسر چوشن ہلیل نے بتایا کہ ہمارے لیے سب سے چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ ڈیڑھ سال گزر جانے کے باوجود نیند میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ ’یہ عارضی مسئلہ نہیں بلکہ ایک طویل المدتی صحت کا بحران ہے۔‘
خواتین اور متاثرہ خاندان سب سے زیادہ متاثرتحقیق کے مطابق خواتین سمیت وہ افراد جن کے عزیز و اقارب 7 اکتوبر کے حملوں میں مارے گئے، زخمی ہوئے یا اغوا کیے گئے، ان سب پر سب سے زیادہ منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
چوشن ہلیل کے مطابق ایران کے ساتھ حالیہ جنگ اور اس کے پھیلاؤ کے خدشات نے شہریوں کی نیند کی حالت کو مزید خراب کر دیا ہے، لوگ ہر رات کئی بار شیلٹر کی طرف بھاگنے پر مجبور ہوتے ہیں، اور اس کے نتیجے میں ان کی بے چینی اور خوف مزید بڑھ گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ اثرات صرف اُن علاقوں تک محدود نہیں جہاں حملے ہوتے ہیں بلکہ دور دراز علاقوں کے لوگ بھی نفسیاتی طور پر شدید متاثر ہیں۔
ایرانی حملے میں اسپتال متاثر، درجنوں زخمیایرانی میزائل حملے میں جمعرات کے روز جنوبی اسرائیل کے شہر بیرشیوا میں سوروکا میڈیکل سینٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں اس وقت 400 مریض زیرِ علاج تھے۔
اس واقعے میں 80 افراد زخمی ہوئے، جن میں نصف اسپتال کا عملہ تھا۔ اسپتال کے مطابق زیادہ تر زخمیوں کو معمولی چوٹیں یا ذہنی دباؤ کی علامات لاحق ہوئیں۔
ایرانی حملوں میں اب تک 24 اسرائیلی شہری ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ایک شخص لاپتا ہے، دوسری جانب، ایرانی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے حملوں میں 639 ایرانی شہری شہید ہو چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل انٹرنیشنل جرنل آف کلینیکل اینڈ ہیلتھ سائیکالوجی ایرانی حملے ایرانی وزارت صحت ایمرجنسی سائرن بے خوابی حماس ذہنی دباؤ راکٹ حملوں شیلٹر کلینیکل انسومنیا میزائل فائرنگ نیند کی کمی نیند کے مسائل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل ایرانی حملے ایرانی وزارت صحت ایمرجنسی سائرن بے خوابی راکٹ حملوں شیلٹر میزائل فائرنگ نیند کی کمی نیند کے مسائل کے مطابق کی نیند نیند کے نیند کی
پڑھیں:
انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔
ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔