پاکستان علاقائی کشیدگی میں کمی کیلئے فعال کردار ادا کرتا رہے گا، فیلڈ مارشل
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
واشنگٹن: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہےکہ پاکستان علاقائی کشیدگی میں کمی اور تعاون پرمبنی سکیورٹی فریم ورک کے فروغ میں فعال کردار ادا کرتا رہے گا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا امریکا کا سرکاری دورہ جاری ہے جہاں انہوں نے امریکی تھنک ٹینکس اور اسٹریٹیجک امور کےنمائندوں سے ملاقات کی، اس ملاقات نے پاکستان کے اسٹریٹیجک وژن کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے واشنگٹن میں ممتازاسکالرز، تجزیہ کاروں، پالیسی ماہرین اور بین الاقوامی میڈیا اداروں کے نمائندگان سےگفتگو کی جس میں پاکستان کے اصولی مؤقف کو علاقائی اور عالمی معاملات پر اجاگر کیا گیا جب کہ آرمی چیف نے دہشتگردی سے متعلق پاکستان کے نکتہ نظر پر روشنی ڈالی۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہےکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے معرکہ حق اور آپریشن بنیان مرصوص پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی اور علاقائی امن و استحکام سے متعلق پاکستان کے تعمیری کردار کو اجاگر کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاکستان کی غیرمعمولی صلاحیتوں پر بھی روشنی ڈالی اور آئی ٹی، زراعت اور معدنی وسائل سمیت مختلف شعبوں میں بین الاقوامی شراکت داروں کو اشتراک کے مواقع تلاش کرنےکی دعوت دی جب کہ اس گفتگو کے دوران پاک امریکا دیرینہ شراکت داری کا بھی جائزہ لیا گیا۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ بعض علاقائی عناصر دہشتگردی کو ہائبرڈ وار فیئر کے ہتھیار کے طور پر استعمال کررہے ہیں، پاکستان دہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ میں صفِ اول پر رہا ہے، پاکستان نے ایک محفوظ دنیا کے لیے بے پناہ انسانی اور معاشی قربانیاں دی ہیں۔
آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان علاقائی کشیدگی میں کمی اور تعاون پرمبنی سکیورٹی فریم ورک کےفروغ میں فعال کردار ادا کرتا رہے گا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق شرکا نے آرمی چیف کے خیالات کی کھلے دل سے پیشکش اور وضاحت کو سراہا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ا ئی ایس پی ا ر فیلڈ مارشل پاکستان کے ا رمی چیف کے مطابق
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس نفسیاتی حد سے اوپر پہنچی ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملے ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کی جاتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہے، کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔
ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر کشیدگی آبنائے ہرمز تک پھیل گئی، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔