WE News:
2026-06-03@07:37:19 GMT

الزائمر سے بچاؤ میں مددگار وٹامنز، تحقیق کیا کہتی ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT

الزائمر سے بچاؤ میں مددگار وٹامنز، تحقیق کیا کہتی ہے؟

الزائمر ایک ایسی دماغی بیماری ہے جو عمر کے ساتھ یادداشت، سوچنے کی صلاحیت اور روزمرہ کے کام انجام دینے کی اہلیت کو متاثر کرتی ہے۔ مکمل علاج تو فی الحال ممکن نہیں، مگر سائنسی مطالعات سے پتا چلا ہے کہ کچھ وٹامنز کے باقاعدہ استعمال سے اس بیماری کے آغاز کو روکا جا سکتا ہے یا اس کی پیش رفت کو سست کیا جا سکتا ہے۔

وٹامن بی12 ، دماغ کے لیے اہم ترین غذائی جز

وٹامن بی12 دماغی افعال اور اعصابی نظام کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اس کی کمی سے یادداشت میں کمی، ذہنی دھند اور دماغی کمزوری پیدا ہو سکتی ہے۔ اس وٹامن کی مناسب مقدار ذہنی تنزلی کے خدشے کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔

وٹامن بی6 اور بی9 (فولک ایسڈ)، دماغی خلیات کا محافظ

جب جسم میں ہوموسسٹین نامی زہریلا مادہ زیادہ ہو جائے تو یہ دماغی خلیات کو نقصان پہنچاتا ہے۔ وٹامن بی6، بی9 اور بی12 مل کر اس کی سطح کو کم کرتے ہیں، یوں دماغ کو بہتر تحفظ ملتا ہے۔

وٹامن ڈی، دماغی صحت اور موڈ میں بہتری کے لیے

وٹامن ڈی جسے “سن لائٹ وٹامن” بھی کہا جاتا ہے، نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صحت کے لیے بھی ضروری ہے۔ تحقیقات بتاتی ہیں کہ وٹامن ڈی کی کمی الزائمر کے خطرے میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

وٹامن ای، دماغی خلیات کی قدرتی ڈھال

یہ طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ دماغی خلیات کو فری ریڈیکلز سے بچاتا ہے۔ وٹامن ای ذہنی تنزلی کو سست کرنے میں معاون ہو سکتا ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو الزائمر کی درمیانی سطح پر ہیں۔

اگرچہ وٹامنز الزائمر کا مکمل علاج نہیں، لیکن متوازن غذا، جسمانی سرگرمی، اور ان وٹامنز کا استعمال دماغی صحت کو بہتر بنانے اور الزائمر سے بچاؤ میں مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ کسی بھی سپلیمنٹ کے استعمال سے پہلے ماہر ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news الزائمز انسانی صحت وٹامن.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: الزائمز وٹامن سکتا ہے کے لیے

پڑھیں:

پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (Pakistan Institute of Development Economics) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی ہے، جسے موجودہ معاشی حالات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں ایک اہم پالیسی تجویز قرار دیا جا رہا ہے۔

پائیڈ کی جانب سے جاری کردہ شواہد پر مبنی فریم ورک کے مطابق کم از کم اجرت میں اضافہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک وسیع معاشی اور سماجی ضرورت ہے، جو گھریلو سطح پر قوتِ خرید، غربت میں کمی، غیر رسمی روزگار کے رجحانات اور مجموعی معاشی استحکام پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر مالی سال 2026-27 کے لیے کم از کم اجرت 45 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جاتی ہے تو یہ موجودہ 40 ہزار روپے کی سطح کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافہ ہوگا۔ اس اضافے کو محنت کش طبقے کی مالی مشکلات میں کمی اور ان کی معاشی استعداد بہتر بنانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

پائیڈ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کم از کم اجرت کی پالیسی کو محض لیبر ڈپارٹمنٹ تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، کیونکہ اس کا تعلق براہ راست عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، مہنگائی کے دباؤ اور مقامی مارکیٹ کی طلب سے جڑا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اجرت میں مناسب اضافہ نہ صرف مزدور طبقے کے معیارِ زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ پیداواری عمل میں بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔

مزیدپڑھیں:حکومت کا ریئل اسٹیٹ پیکیج تیار، فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے 1.5 فیصد تک لانے کی تجویز

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط مہنگائی کی شرح تقریباً 6.19 فیصد رہی، تاہم اپریل 2026 میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی بڑھ کر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی، جس نے عام شہریوں کی قوتِ خرید کو مزید متاثر کیا۔

 موجودہ معاشی صورتحال میں اجرتوں میں اضافہ ایک متوازن پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ کاروباری لاگت اور روزگار کے مواقع پر بھی اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔

پائیڈ کی سفارش کے بعد اب یہ معاملہ حکومتی سطح پر غور کے لیے پیش کیا جائے گا، جہاں حتمی فیصلہ بجٹ پالیسی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ