ملک میں مہنگائی کا پارہ چڑھنے لگا۔ ایک ہفتے کے دوران چینی، آلو، آٹے، مٹن بیف سمیت 23 اشیا مہنگی ہو گئیں۔ ادارہ شماریات نے ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی سے متعلق رپورٹ جاری کر دی۔

ملک بھر میں مہنگائی کا گراف ایک بار پھر بلند ہو گیا ہے، جس کے باعث عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ایک ہفتے کے دوران چینی، آلو، آٹا، مٹن، بیف اور دیگر 23 اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس دوران، ایل پی جی کا گھریلو سلنڈر 452 روپے 48 پیسے مہنگا ہو گیا ہے، جبکہ چینی کی قیمت میں بھی فی کلو 3 روپے 77 پیسے کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ادارہ شماریات کی ہفتہ وار بنیادوں پر جاری کردہ مہنگائی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس دوران مہنگائی کا پارہ 0.

27 فیصد بڑھا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، برائلر مرغی کی قیمت میں 7 روپے 28 پیسے فی کلو اضافہ ہوا، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 7 روپے 95 پیسے فی لیٹر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

دوسری طرف، کچھ اشیاء کی قیمتوں میں کمی بھی ہوئی ہے۔ انڈے فی درجن 31 روپے 3 پیسے سستے ہوئے ہیں، جبکہ ٹماٹر فی کلو 4 روپے 17 پیسے اور لہسن فی کلو 3 روپے 37 پیسے سستا ہوا ہے۔ ادارہ شماریات کے مطابق، چنے، جلانے کی لکڑی اور کیلے بھی سستے ہونے والی اشیاء میں شامل ہیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی میں 2 اعشاریہ 6 فیصد کی کمی آئی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود 23 اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ عوام کے لیے تشویش کا باعث بن گیا ہے، جن میں دال ماش، دال مونگ، پیٹرول، خشک دودھ، پیاز، گندم کا آٹا، کپڑے، گڑ، بیف اور مٹن شامل ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: گیا ہے فی کلو

پڑھیں:

چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا

اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔

ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا