ملک میں ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی کا پارہ صفر اعشاریہ 27فیصد بڑھ گیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
ملک میں ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی کا پارہ صفر اعشاریہ 27فیصد بڑھ گیا WhatsAppFacebookTwitter 0 20 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )ملک میں مہنگائی کا پارہ چڑھنے لگا۔ ایک ہفتے کے دوران چینی، آلو، آٹے، مٹن بیف سمیت 23 اشیا مہنگی ہو گئیں۔ ادارہ شماریات نے ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی سے متعلق رپورٹ جاری کر دی۔ملک بھر میں مہنگائی کا گراف ایک بار پھر بلند ہو گیا ہے، جس کے باعث عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
ایک ہفتے کے دوران چینی، آلو، آٹا، مٹن، بیف اور دیگر 23 اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اس دوران، ایل پی جی کا گھریلو سلنڈر 452 روپے 48 پیسے مہنگا ہو گیا ہے، جبکہ چینی کی قیمت میں بھی فی کلو 3 روپے 77 پیسے کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ادارہ شماریات کی ہفتہ وار بنیادوں پر جاری کردہ مہنگائی کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس دوران مہنگائی کا پارہ 0 اعشاریہ27 فیصد بڑھا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، برائلر مرغی کی قیمت میں 7 روپے 28 پیسے فی کلو اضافہ ہوا، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 7 روپے 95 پیسے فی لیٹر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دوسری طرف، کچھ اشیا کی قیمتوں میں کمی بھی ہوئی ہے۔ انڈے فی درجن 31 روپے 3 پیسے سستے ہوئے ہیں، جبکہ ٹماٹر فی کلو 4 روپے 17 پیسے اور لہسن فی کلو 3 روپے 37 پیسے سستا ہوا ہے۔ ادارہ شماریات کے مطابق، چنے، جلانے کی لکڑی اور کیلے بھی سستے ہونے والی اشیا میں شامل ہیں۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی میں 2 اعشاریہ 6 فیصد کی کمی آئی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود 23 اشیا کی قیمتوں میں اضافہ عوام کے لیے تشویش کا باعث بن گیا ہے، جن میں دال ماش، دال مونگ، پیٹرول، خشک دودھ، پیاز، گندم کا آٹا، کپڑے، گڑ، بیف اور مٹن شامل ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچیف جسٹس جسٹس یحییٰ آفریدی سے سعودی سفیر نواف المالکی کی ملاقات چیف جسٹس جسٹس یحییٰ آفریدی سے سعودی سفیر نواف المالکی کی ملاقات عالمی برادری کو صیہونی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کی ضمانت دینی ہو گی، ایرانی صدر سی ٹی ڈی ساہیوال کی خفیہ اطلاع پر کارروائی، کالعدم ٹی ٹی پی کا خارجی گرفتار حکومت کا 5سال پرانی گاڑیوں کی کمرشل امپورٹ کی اجازت دینے کا فیصلہ حکومت کا چینی کی قیمتوں میں استحکام کیلئے 5لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کا فیصلہ چینی کوسٹ گارڈ کی فلپائن کے ایک سرکاری جہاز کے خلاف پیشہ ورانہ کارروائیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ہفتہ وار بنیادوں پر بنیادوں پر مہنگائی مہنگائی کا پارہ
پڑھیں:
حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔