شارع فیصل پر خستہ حال پول موٹر سائیکل پر گرنے سے شہری جاں بحق، اہلیہ اور بیٹی زخمی
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
کراچی:
کار ساز شارع فیصل پر ایئر پورٹ جانے والے ٹریک پر اسٹریٹ لائٹ کا خستہ حال پول موٹر سائیکل سوار خاندان پر گر گیا جس کے نتیجے میں شوہر جاں بحق، اہلیہ اور بیٹی زخمی ہوگئیں۔
کراچی کے علاقے کارساز شارع فیصل پر خستہ حال پول موٹرسائیکل پر سوار خاندان پر گرنے سے جاں بحق شہری کی لاش چھیپا کے رضا کاروں نے ضابطے کی کارروائی کے لیے جناح اسپتال پہنچائی۔
جاں بحق شہری کی شناخت 45 سالہ جمیل کے نام سے کی گئی، متوفی کی اہلیہ 40 سالہ فاطمہ اور بیٹی 16 سالہ انشیہ کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، خاندان ڈرگ روڈ سے کار ساز کی جانب جانے والے ٹریک پر پیش آیا ہے۔
حادثے کا شکار ہونے والا خاندان شارع فیصل سے گزر رہا تھا کہ یہ افسوس ناک واقعہ پیش آیا۔
متوفی ڈرگ روڈ کینٹ بازار کا رہائشی اور3 بچوں کا باپ تھا، جس میں دو بیٹیاں اورایک بیٹا ہے اوراپنی رہائش گاہ سے کسی رشتے دار کے گھر جا رہا تھا۔
موقع پر موجود افراد نے شارع فیصل پر گرنے والے اسٹریٹ لائٹ کے پول کو سخت جدوجہد کے بعد کھینچ کر فٹ پاتھ پر رکھ دیا۔
حادثے کے بعد شارع فیصل پر وقتی طور پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوگئی تاہم پولیس نے موقع پر پہنچ کر صورت حال پر قابو پالیا اور اس حوالے سے پولیس واقعے کی مزید تحقیقات کر رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شارع فیصل پر
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔