کراچی ایئرپورٹ پر بلاول زرداری کا استقبال شہریوں کیلیے درد سر بن گیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی:شہر قائد میں جمعے کے روز پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کے استقبال نے عوام کے لیے عذاب کی شکل اختیار کر لی، بلاول زرداری کی کراچی ایئرپورٹ آمد سے کئی گھنٹے قبل ہی شہر کی اہم ترین شاہراہ فیصل اور اطراف کی سڑکیں ٹریفک کے لیے بند کر دی گئیں، جس کے باعث شہریوں، مسافروں، ایئرلائن اسٹاف، مریضوں اور دفتری ملازمین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
تفصیلات کے مطابق چیئرمین بلاول زرداری کو شام 7 بج کر 30 منٹ پر ایئرپورٹ کے اولڈ ٹرمینل پر پہنچنا تھا مگر صبح سے ہی شہر کی مرکزی شاہراہ فیصل، ڈرگ روڈ، کارساز، راشد منہاس روڈ اور ایئرپورٹ کے اطراف کی تمام اہم سڑکوں کو جزوی یا مکمل طور پر بند کر دیا گیا۔
ٹریفک پولیس کی ناکافی حکمت عملی اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی درجنوں گاڑیوں کی بے ترتیب پارکنگ نے صورتحال کو مزید ابتر کر دیا۔
شہریوں نے شکایت کی کہ سیکورٹی کے نام پر عوام کی زندگی اجیرن بنا دی گئی، ایئرپورٹ جانے والے مسافروں کو گاڑیاں روک لی گئیں، کئی لوگوں کی فلائٹس مس ہو گئیں اور ایئرلائنز کے عملے کو بھی پہنچنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا، جناح ٹرمینل جانے والی سڑک مکمل طور پر بند کر دی گئی جبکہ عزیز و اقارب کو لینے یا رخصت کرنے کے لیے آنے والوں کو بھی ایئرپورٹ کی حدود میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔
شاہراہ فیصل پر لگنے والے بدترین ٹریفک جام کے نتیجے میں کئی کلومیٹر طویل قطاریں لگ گئیں، درجنوں ایمبولینسیں بھی راستے میں پھنسی رہیں اور ٹریفک پولیس مکمل طور پر بے بس نظر آئی، دفتر سے گھروں، کاروبار یا دیگر اہم کاموں پر جانے والے شہری شدید ذہنی و جسمانی اذیت میں مبتلا رہے۔
ایک معمر شہری جو ملیر سے شاہراہ فیصل کے ذریعے واپس جا رہے تھے، انہوں نے شکایت کی کہ بلاول کو شام کو آنا ہے تو شہریوں کو صبح سے کیوں ذلیل کیا جا رہا ہے؟ ہمیں تو انسان ہی نہیں سمجھا جا رہا۔
فاضل نقوی نامی شہری نے بتایا کہ شام پانچ بجے کے بعد یہ سڑک ویسے ہی سست روی کا شکار ہوتی ہے مگر بلاول کے استقبال نے حالات مزید خراب کر دیے۔
پیپلز پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سخت سیکیورٹی اقدامات “فول پروف” استقبال کے لیے کیے گئے تھے لیکن ان “اقدامات” کی قیمت عام شہریوں کو ٹریفک میں گھنٹوں خوار ہو کر چکانا پڑی۔
شہر کی سب سے مصروف اور اہم شاہراہ کو بلا سوچے سمجھے بند کرنا نہ صرف انتظامی ناکامی کی علامت ہے بلکہ عوام کی بنیادی نقل و حرکت کے حق پر ایک کھلی ضرب ہے۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ کسی بھی سیاسی شخصیت کے استقبال یا جلسے جلوس کی آڑ میں عوام کے حقوق سلب نہ کیے جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بلاول زرداری شاہراہ فیصل کے لیے
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔