data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی:شہر قائد میں جمعے کے روز پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کے استقبال نے عوام کے لیے عذاب کی شکل اختیار کر لی، بلاول زرداری کی کراچی ایئرپورٹ آمد سے کئی گھنٹے قبل ہی شہر کی اہم ترین شاہراہ فیصل اور اطراف کی سڑکیں ٹریفک کے لیے بند کر دی گئیں، جس کے باعث شہریوں، مسافروں، ایئرلائن اسٹاف، مریضوں اور دفتری ملازمین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

تفصیلات کے مطابق چیئرمین بلاول زرداری کو شام 7 بج کر 30 منٹ پر ایئرپورٹ کے اولڈ ٹرمینل پر پہنچنا تھا مگر صبح سے ہی شہر کی مرکزی شاہراہ فیصل، ڈرگ روڈ، کارساز، راشد منہاس روڈ اور ایئرپورٹ کے اطراف کی تمام اہم سڑکوں کو جزوی یا مکمل طور پر بند کر دیا گیا۔

ٹریفک پولیس کی ناکافی حکمت عملی اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی درجنوں گاڑیوں کی بے ترتیب پارکنگ نے صورتحال کو مزید ابتر کر دیا۔

شہریوں نے شکایت کی کہ سیکورٹی کے نام پر عوام کی زندگی اجیرن بنا دی گئی، ایئرپورٹ جانے والے مسافروں کو گاڑیاں روک لی گئیں، کئی لوگوں کی فلائٹس مس ہو گئیں اور ایئرلائنز کے عملے کو بھی پہنچنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا، جناح ٹرمینل جانے والی سڑک مکمل طور پر بند کر دی گئی جبکہ عزیز و اقارب کو لینے یا رخصت کرنے کے لیے آنے والوں کو بھی ایئرپورٹ کی حدود میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔

شاہراہ فیصل پر لگنے والے بدترین ٹریفک جام کے نتیجے میں کئی کلومیٹر طویل قطاریں لگ گئیں، درجنوں ایمبولینسیں بھی راستے میں پھنسی رہیں اور ٹریفک پولیس مکمل طور پر بے بس نظر آئی، دفتر سے گھروں، کاروبار یا دیگر اہم کاموں پر جانے والے شہری شدید ذہنی و جسمانی اذیت میں مبتلا رہے۔

ایک معمر شہری جو ملیر سے شاہراہ فیصل کے ذریعے واپس جا رہے تھے، انہوں نے شکایت کی کہ بلاول کو شام کو آنا ہے تو شہریوں کو صبح سے کیوں ذلیل کیا جا رہا ہے؟ ہمیں تو  انسان ہی نہیں سمجھا جا رہا۔

 فاضل نقوی نامی شہری نے بتایا کہ شام پانچ بجے کے بعد یہ سڑک ویسے ہی سست روی کا شکار ہوتی ہے مگر بلاول کے استقبال نے حالات مزید خراب کر دیے۔

پیپلز پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سخت سیکیورٹی اقدامات “فول پروف” استقبال کے لیے کیے گئے تھے لیکن ان “اقدامات” کی قیمت عام شہریوں کو ٹریفک میں گھنٹوں خوار ہو کر چکانا پڑی۔

شہر کی سب سے مصروف اور اہم شاہراہ کو بلا سوچے سمجھے بند کرنا نہ صرف انتظامی ناکامی کی علامت ہے بلکہ عوام کی بنیادی نقل و حرکت کے حق پر ایک کھلی ضرب ہے۔

شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ کسی بھی سیاسی شخصیت کے استقبال یا جلسے جلوس کی آڑ میں عوام کے حقوق سلب نہ کیے جائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بلاول زرداری شاہراہ فیصل کے لیے

پڑھیں:

دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری

گلگت: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں. امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں. جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں. میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں. گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں،  سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے.

 قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ انہیں کون سمجھائے کہ بھٹو کے 70ء کے دور میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق یہاں سے پچاس ہزار میگا واٹ تک بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور یہاں ایک پروفیسر یہ کہہ کر خوش ہورہا ہے کہ یہاں سو میگا واٹ بجلی دینا میرے داہنے ہاتھ کا کام ہے، اگر داہنے ہاتھ کا کام ہے تو کیا کیوں نہیں؟ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے اپنی بجلی پیدا کریں گے اور اسلام کو فروخت کریں گے.پروفیسر کو فروخت کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔

متعلقہ مضامین

  • سیاستدان امیر دوستوں کو مراعات دینا، غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں: بلاول
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو