انوکھی نوکری؛ جنگلی انسان بن کر پارک میں گھومیں اور 70 ڈالر روزانہ کمائیں
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بیجنگ: چین کے شینونگجیا نیشنل پارک نے ایک ایسی نوکری کا اشتہار دیا ہے جس نے ملک بھر کے نوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ کرلیا ہے۔
پارک انتظامیہ کو ’وائلڈ مین‘ (جنگلی انسان) کا کردار ادا کرنے والے افراد کی تلاش ہے، جنہیں روزانہ 500 یوان (تقریباً 70 ڈالر) معاوضہ دیا جائے گا۔ اس انوکھی پیشکش پر صرف چند دنوں میں 10 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔
منتخب ہونے والے افراد کو چینی دیومالائی کہانیوں میں موجود ’وائلڈ مین‘ کی طرح کا روپ دھارنا ہوگا۔ انہیں پارک کے جنگلات میں گھومتے ہوئے سیاحوں کو حیران کرنا ہوگا۔ یہ کردار ایک طرح سے پارک کی خوبصورتی اور پراسراریت کو بڑھانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
چائنا ڈیلی کے مطابق پارک انتظامیہ نے درخواست دہندگان تک پہنچنے کے لیے شارٹ ویڈیو پلیٹ فارمز پر خصوصی گروپس بنائے ہیں۔ اب تک 20 سے زائد ایسے گروپس تشکیل دیے جا چکے ہیں، جن میں سے ہر ایک میں 500 ارکان شامل ہیں۔ اس طرح، تقریباً 10 ہزار افراد اس نوکری کے خواہشمند ہیں،تاہم صرف 16 خوش قسمت افراد ہی اس موقع کے لیے منتخب کیے جائیں گے۔
شینونگجیا نیشنل پارک چین کے خوبصورت ترین قدرتی مقامات میں سے ایک ہے، جہاں گھنے جنگلات اور نایاب جانور پائے جاتے ہیں۔
پارک انتظامیہ کا خیال ہے کہ ’وائلڈ مین‘ کا کردار سیاحوں کے لیے اضافی دلچسپی کا باعث بنے گا۔ یہ منصوبہ نہ صرف پارک کی مقبولیت بڑھائے گا بلکہ ملازمت کے خواہشمندوں کے لیے ایک منفرد موقع بھی فراہم کرے گا۔
اگرچہ درخواست دینے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، لیکن منتخب ہونے کے لیے امیدواروں میں تخلیقی صلاحیتوں، جسمانی فٹنس اور کردار کو نبھانے کی صلاحیت کو ترجیح دی جائے گی۔ نوکری کی مدت اور دیگر تفصیلات کا ابھی تک اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن یہ واضح ہے کہ یہ موقع چین میں روزگار کے روایتی طریقوں سے ہٹ کر ایک نیا تجربہ ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔