ہیروئن بیچنے والی کمسن لڑکی کے والدین کی فوری گرفتاری کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
سندھ ہائی کورٹ نے ہیروئن بیچتے پکڑی جانے والی کمسن لڑکی کے والدین کی فوری گرفتاری کا حکم دیدیا۔
پولیس نے 14 سالہ سعدیہ کو 500 گرام ہیروئن کے ساتھ پکڑا تھا، جسٹس عمر سیال نے لڑکی ضمانت منظور کی اور پولیس کو والدین کی گرفتاری کا حکم دیا۔
عدالتی حکم میں کہا گیا کہ والدین کو گرفتار کریں، تفتیش کریں کہ وہ بیٹی سے منشیات کیوں فروخت کروا رہے تھے؟
کمسن لڑکی نے بیان دیا کہ فروخت کرنے کےلیے ہیروئن اسے اس کی والدہ نے دی تھی۔
جج نے ریمارکس دیے کہ والدین تو بچوں کی تربیت، نگرانی اور حفاظت کے ذمے دار ہوتے ہیں، اگر والدین منشیات فروشی میں ملوث پائے جائیں تو بچی چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹی کے حوالے کی جائے۔
عدالت نے کہا کہ منشیات فروشی کے لیے بچوں کے استعمال کا بڑھتا رجحان تشویشناک ہے، یہ بچوں کا ویسا ہی استحصال ہے، جیسا خواتین کا کیا جاتا ہے، اقوام متحدہ کے بچوں کے حقوق کے کنونشن کے تحت ذمے داریاں پوری نہ کرنا ریاست کی ناکامی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
فائل فوٹوکراچی کے علاقے احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش ملی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کی موت بظاہر طبعی لگتی ہے، مزید تحقیقات کر رہے ہیں، :لڑکی کی رات گئے طبعیت خراب ہوئی تھی، انسٹیٹیوٹ میں اسپتال بھی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ کے ہاسٹل میں رہائش پذیر تھی۔