پاکستانیوں کی طرف سے سالانہ 1 ارب ڈالر کی آن لائن خریداری کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: پاکستانی صارفین کی جانب سے غیر ملکی آن لائن پلیٹ فارمز پر سالانہ خریداری کی مالیت ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے، جس کے پیش نظر حکومت نے نئے مالی سال کے بجٹ میں انٹرنیشنل ڈیجیٹل سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں پر 5 فیصد ٹیکس عائد کر دیا ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق پاکستانی شہریوں نے فیس بک، گوگل، علی بابا، نیٹ فلیکس، ایپ اسٹور، شاپی فائی اور دیگر بین الاقوامی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مجموعی طور پر 317 ارب روپے سے زائد کی آن لائن خریداری کی۔ سال بھر میں ہونے والی آن لائن لین دین کی تعداد 4 کروڑ 26 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔
اعداد و شمار کے مطابق فیس بک پر اشتہارات، خدمات اور دیگر اخراجات کی مد میں 1231 ارب روپے کی خطیر رقم خرچ کی گئی، جب کہ گوگل کو 5.
اس کے علاوہ نیٹ فلیکس پر سبسکرپشنز کی مد میں 2.79 ارب روپے، اور شاپی فائی پر ایک ارب سے زائد کی مالی لین دین ہوئی، جب کہ دیگر عالمی ڈیجیٹل و تجارتی پلیٹ فارمز پر پاکستانی صارفین نے مجموعی طور پر 281 ارب روپے سے زیادہ خرچ کیے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس کی وجہ سے حکومت نے غیر ملکی آن لائن وینڈرز سے ریونیو وصولی کے لیے ٹیکس کا نفاذ کیا ہے۔ معاشی ماہرین اس اقدام کو مالیاتی نظم و نسق کی بہتری کی جانب اہم قدم قرار دے رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔