اسرائیلی جارحیت سے خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہیں، اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
اسلامی تعاون تنظیم کے وزارئے خارجہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش ہے، ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں ہزاروں کی تعداد میں خواتین اور بچے شہید ہو چکے ہیں، غزہ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اسرائیلی جارحیت سے خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ اسلامی تعاون تنظیم کے وزارئے خارجہ اجلاس سے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خطاب کیا۔ نائب وزیراعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ استنبول میں شاندار مہمان نوازی پر ترک صدر رجب طیب اردوان اور دیگر قیادت کے مشکو رہیں۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ امت مسلمہ کو مختلف چیلنجز درپیش ہیں، ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کرنا وقت کی ضرورت ہے، امید ہے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے او آئی سی اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی لاکھوں افراد کو مقبوضہ فلسطین میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، اسلامو فوبیا کی روک تھام کے لیے مل کر اقدامات کرنا ہوں گے۔
نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش ہے، اسرائیلی جارحیت سے خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں ہزاروں کی تعداد میں خواتین اور بچے شہید ہو چکے ہیں، غزہ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی اقدامات عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں، پاکستان علاقائی امن و استحکام کے لیے تمام اقدامات کر رہا ہے۔ اسحق ڈار کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے حصے کا پانی روکنا کسی صورت قابل قبول نہیں، خطے میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسرائیلی جارحیت کا کہنا تھا کہ کہ اسرائیلی اسحاق ڈار کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔