ٹرمپ کو نوبیل انعام دینے کے حوالے سے سوالات بہت زیادہ ہیں
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
لاہور:
گروپ ایڈیٹر ایکسپریس نیوز ایاز خان نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے جب پاکستان اور انڈیا کی جنگ رکوائی، ایک تو ظاہر ہے کہ انڈیا کی ریکویسٹ پہ وہ سیز فائر کی طرف آئے تھے،دوسرا انڈیا اس پوزیشن میں نہیں تھا کہ جواب دے سکتا، اس لیے ظاہر ہے کہ وہ اس میں کامیاب ہو گئے۔
ایکسپریس نیوز کے پروگرام ایکسپرٹس میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اسرائیل کے حوالے سے آج بھی وہ یہ کہہ رہے تھے کہ میں ان کو فضائی حملے کرنے سے نہیں روک سکتا پھر جو عزہ میں انھوں نے کیا، میرے رائے یہ ہے کہ صدر ٹرمپ کو امن کے نوبیل انعام کیلیے نامزد نہیں کرنا چاہیے تھا۔
تجزیہ کار عامر الیاس رانا نے کہا کہ بہت سارے لوگ اس پر مختلف تبصرے کر رہے ہیں اور تجاویز دے رہے ہیں کہ پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 2026 کیلیے امن کا نوبیل انعام دینے کی سفارش کی ہے، دنیا میں سفارت کاری مختلف انداز سے ہوتی ہے، آپ کو پتہ ہے کہ صدر ٹرمپ خود بھی اس خواہش کا اظہار کر چکے ہیں کہ جس میں وہ انڈیا پاکستان کی لڑائی رکوانے میں بھی کردار کا کہہ کر کہ مجھے تو اس پر امن کا نوبیل انعام ملنا چاہیے، میں کوششیں کر رہا ہوں امن کو ایک راستہ دینا چاہیے۔
تجزیہ کار خالد قیوم نے کہا کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ رکوانے کی حد تک تو میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی طرف سے صدر ٹرمپ کو جو امن کا نوبیل انعام دینے کی سفارش کی گئی ہے یہ تو درست ہے کیونکہ اگر یہ جنگ نہ روکی جاتی تو نہ صرف پورا خطہ بلکہ پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آ سکتی تھی کیونکہ پاکستان اور بھارت دونوں ممالک ایٹمی قوت ہیں تو پھر اس کے اثرات جو ہیں وہ بڑھ سکتے تھے،ٹرمپ کو نوبیل انعام دینے کے حوالے سے جو ہے سوالات بہت زیادہ ہیں۔
تجزیہ کار شکیل انجم نے کہا کہ جو پاک بھارت جنگ تھی جس طریقے سے جنگ شروع ہوئی اور پھرپاکستان نے جس انداز سے جواب دیا تو پھرانڈیا کو مجبوراً انڈیا کا سہارا لینا پڑا اور اس نے صدر ٹرمپ سے گزارش کی کہ مجھے اس جنگ سے بچایا جائے پھر پاکستان نے فوری طور پر سیز فائر کا اعلان کیا تو میرا یہ خیال ہے کہ اس حوالے سے جو ڈونلڈ ٹرمپ ہیں ان کا دنیا میں امن کے حوالے سے کردار تو موجود ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نوبیل انعام دینے کے حوالے سے کہ پاکستان نے کہا کہ ٹرمپ کو
پڑھیں:
ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔