data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد(آن لائن) چینی مافیا بے لگام،مختلف شہروں میں قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں ،ملک کے مختلف علاقوں میں چینی فی کلو قیمت 195 روپے تک فروخت ہونے لگی۔ رپورٹ کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سب سے زیادہ مہنگی چینی 195 روپے فی کلو میں دستیاب ہے جبکہ جڑواں شہر راولپنڈی میں چینی فی کلو قیمت 190 روپے میں فروخت ہونے لگی ہے اسی طرح کراچی اور پشاور کے شہری بھی فی کلو چینی 190 روپے میں خریدنے پر مجبور ہیں ۔رپورٹ کے مطابق کوئٹہ میں فی کلو چینی 186 روپے،خضدار میں 185 روپے میں دستیاب ہے ،سیالکوٹ میں فی کلو چینی کی قیمت 185 روپے کی سطح تک ریکارڈ پر پہنچ گئی ہے ۔ اسی طرح حیدر آباد،بہاولپور اور ملتان میں فی کلو چینی کی قیمت 180 روپے، سکھر اور لاڑکانہ میں فی کلو چینی کی قیمت 175 روپے ریکارڈ کی گئی ہے ۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ملتان اور بنوں میں بھی فی کلو چینی کی زیادہ سے زیادہ قیمت 180 روپے ریکارڈ کی گئی ہے ۔حکومت گزشتہ روز چینی کی برآمد کے بعد ساڑھے سات لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے ۔ وزارت فوڈ سیکیورٹی حکام کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ فیصلہ چینی کی قیمتوں میں توازن برقرار رکھنے کیلئے کیا گیا 2 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن خام چینج درآمد کی منظوری کابینہ دے گی 5 لاکھ میٹرک ٹن ریفائن چینی درآمد کرنے کی اصولی منظوری کابینہ سے لی جا چکی۔ وزارت کا کہنا تھا کہ جولائی تا مئی حکومت 7 لاکھ 65 ہزار میٹرک ٹن سے زائد چینی برآمد کر چکی ہے چینی کی برآمد سے 112 ارب روپے سے زائد کی آمدن حاصل کی گئی چینی کی حالیہ برآمدات میں گزشتہ سال کی نسبت 22 سو فیصد سے زائد کا اضافہ رہا، چینی کی برآمد سے مارکیٹ میں قلت اور اضافی قیمتوں کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: میں فی کلو چینی فی کلو چینی کی چینی کی قیمت

پڑھیں:

چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا

اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔

ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی بار 8 لاکھ 32ہزار سےزائدکاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری
  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا