پلاسٹک بیگ پر پابندی سے قبل حکومت متبادل نظام فراہم کرے،ادریس چوہان
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے قائم مقام صدر احمد ادریس چوہان سے حیدرآباد پلاسٹک بیگز ایسوسی ایشن مارکیٹ روڈ حیدرآباد کے وفد نے سرپرست یوسف دادا اور صدر ندیم نظامانی کی قیادت میں ملاقات کی۔ وفد نے سندھ حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن مورخہ 30 اپریل 2025ءکے تحت 15 جون 2025 سے تمام اقسام، سائز اور وزن کے نان ڈیگریڈیبل اور آکسو ڈیگریڈیبل پلاسٹک کیریئر بیگز پر صوبہ بھر میں مکمل پابندی نافذ کیے جانے کے حوالے سے
تحفظات کا اظہار کیا۔ وفد نے مو¿قف اختیار کیا کہ وہ حکومت سندھ کے ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات اور 2014ءکے قوانین پر عملدرآمد کے لیے تیار ہیں، مگر اچانک اور بغیر کسی مناسب تیاری یا مشاورت کے پابندی کا اطلاق چھوٹے کاروبار، فیکٹری مالکان اور ہزاروں مزدوروں کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔ قائم مقام صدر ادریس چوہان نے چیمبر کی جانب سے وفد کو مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ پلاسٹک بیگ کا استعمال واقعی ماحول کے لیے مہلک ہے، مگر حکومت اگر ان تھیلوں کا خاتمہ کرنا چاہتی ہے تواسے پہلے متبادل کا نظام بنانا ہوگا۔ آگاہی مہم چلانی ہوگی اور مقامی صنعت کو نئے ماحول دوست مصنوعات کی تیاری کے لیے تربیت دینی ہوگی۔ فی الفور پابندی بے روزگاری، فیکٹریوں کی بندش اور مہنگائی کو جنم دے گی۔ حکومت کا کام صرف پابندی لگانا نہیں بلکہ قابل عمل متبادل دینا بھی ہے۔ حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری مطالبہ کرتا ہے کہ یہ عمل مرحلہ وار، صنعت سے مشاورت کے بعد اور عوامی آگاہی کے ساتھ ہونا چاہیے، ورنہ نتیجہ ماحولیات کی بہتری کے بجائے معاشی تباہی ہوگا۔ وفد نے اس بات پر زور دیا کہ ماحولیاتی بہتری اور تاجروں اور صنعتکاروں کو ساتھ لے کر چلنا ہی دانشمندی ہے۔ وفد نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ وہ ماحول دوست قوانین پر عملدرآمد کے لیے ہر ممکن تعاون کریں گے،حکومت بھی تاجر و صنعت کار برادری کے ساتھ انصاف کرے۔ اس موقع پر سکندر علی راجپوت، کشور کمار بھاٹیا، عبداللہ میمن، نعمان، عاقل نعیم، سعید گلشن، جمیل نصیر اور تیمور موجود تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔