اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ محرم الحرام کے دوران ہر ضلع میں سپوکس پرسن مقرر کئے جائیں گے۔ سوشل میڈیا پر فیک نیوز اور افواہ سازی کے خاتمے کی حکمت عملی بھی تیار کی گئی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ خلاف ورزی پر پرچے اور سزائیں ہوں گی۔ اجلاس میں دی جانیوالی بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب بھر میں 1 لاکھ 10 ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات کئے جائیں گے، 38 ہزار 217 محرم مجالس کی سکیورٹی کیلئے 79 رینجر اہلکار بھی مدد کرینگے۔ اسلام ٹائمز۔ محرم الحرام کے دوران پنجاب میں پہلی بار سائبر پٹرولنگ، رسپانس فورس کی تعیناتی کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ عشرہ محرم الحرام میں پنجاب بھر میں پہلی بار موبائل فونز کی نگرانی کی جائے گی، وزیراعلیٰ کی زیر صدارت اجلاس میں 25 جون کو سکیورٹی پلان کی حتمی منظوری دی جائے گی۔ لاہور میں سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی زیر صدارت جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ صحت، خزانہ، داخلہ، خوراک سمیت تمام صوبائی سیکرٹریز ،ریجنل افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں سکیورٹی پلان کے تحت محرم الحرام کے دوران تمام انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیاگیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ محرم الحرام کے دوران ہر ضلع میں سپوکس پرسن مقرر کئے جائیں گے۔ سوشل میڈیا پر فیک نیوز اور افواہ سازی کے خاتمے کی حکمت عملی بھی تیار کی گئی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ خلاف ورزی پر پرچے اور سزائیں ہوں گی۔ اجلاس میں دی جانیوالی بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب بھر میں 1 لاکھ 10 ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات کئے جائیں گے، 38 ہزار 217 محرم مجالس کی سکیورٹی کیلئے 79 رینجر اہلکار بھی مدد کرینگے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ علمائے کرام، امن کمیٹیوں سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت مکمل کرلی گئی، جلوسوں کے راستوں کی مرمت و صفائی، خراب ٹرانسفارمز سے متعلق اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ محرم الحرام سے متعلق انتظامات اور سکیورٹی دستوں کی پیشگی مشق کی جا چکی ہے، اس بار سیف سٹی کیمروں سے مکمل نگرانی ہوگی، شہریوں کی رہنمائی، جلوس کے شرکاء کی سہولت کیلئے واضح نشانات آویزاں ہوں گے، مرکزی اور ضلعی کنٹرول رومز، ڈی جی پی آر میں فیک نیوز کی نگرانی کا مرکز بنا دیا گیا ہے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ ایک ہی ڈیزائن کی سبیلیں لگائی جائیں گی، گرمی کے پیش نظر جلوسوں کے اوقات میں تبدیلی کی تجویز بھی دی گئی۔ سینیئر صوبائی وزیر نے فرسٹ ایڈ پوائنٹس کے قیام، فیلڈ ہسپتال، کلینکس آن ویلز کی دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ جلوس کے راستے میں پبلک ٹوائلٹس کے قیام، گٹروں کے ڈھکن چیک کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین اہلکاروں کو ڈیوٹی کے دوران ذاتی موبائل رکھنے کی اجازت نہیں ہو گی، ڈرونز کے ذریعے جلوسوں کی نگرانی ہوگی، سکیورٹی فورسز کے سوا اسلحہ پر مکمل پابندی ہوگی، جلوسوں کے داخلی مقامات پر چہروں سے شناخت کرنیوالے کیمرے لگائے جائیں گے۔ مریم اورنگزیب نے کہاکہ شہریوں کیلئے سکیورٹی، سہولت، صفائی کا بڑی عید کی طرح ریکارڈ قائم کرنا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: محرم الحرام کے دوران میں بتایا گیا کہ کئے جائیں گے

پڑھیں:

گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟

گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔

گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔

ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔

خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!

گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔

کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔

جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔

مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟

گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔

منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟

کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار