فیلڈ مارشل کا دورہ امریکہ : بھارت میں صف ماتم
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت سے خطے میں جنگ کے بادل گہرے ہو گئے ہیں۔ علاقائی امن کو کثیر الجہتی خطرات لاحق ہیں۔ ایران کا پڑوسی ہونے کے ناطے پاکستان تیزی سے پھیلتی کشیدگی کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ گزشتہ ماہ بھارت کے جنگی جنون کو پاکستان نے نہایت دلیری اور حکمت سے شکست دی۔ یہ پہلو توجہ طلب ہے کہ شرپسندانہ بھارتی آپریشن سندور کو اسرائیل کی حمایت اور تکنیکی معاونت دستیاب تھی۔ بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ ایک ناقبل تردید حقیقت ہے۔ اسرائیل کی ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف فوجی جارحیت غیر معمولی واقع ہے۔ اس تناظر میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ امریکہ کئی لحاظ سے اہمیت اختیار کر گیا ہے ۔معرکہ حق میں بھارتی جنگی جنون کو شکست دینے کے بعد پاکستان کے سفارتی وفود نے امریکہ سمیت اہم ممالک میں مبنی برحق موقف کو مضبوط دلائل سے پیش کیا۔ اس سفارتی برتری پر بھارتی حکومت میں کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ فیلڈ مارشل کے دورہ امریکہ نے بھارت کی تلملاہٹ میں مزید اضافہ کر دیا۔ رہی سہی کسر صدر ٹرمپ کی فیلڈ مارشل سے غیر معمولی ملاقات نے پوری کر دی۔ بھارت اب کھسیانی بلی کی طرح کھمبا نوچ رہا ہے۔فیلڈ مارشل عاصم منیر اور امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان بدھ کے روز وائٹ ہائوس میں ہونے والی دوگھنٹے سے زیادہ دورانیے کی ملاقات جنوبی ایشیا سمیت دنیا بھر کے اہم ممالک میں انتہائی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ پاک بھارت اور ایران اسرائیل جنگ کے تناظر میں ہر ملک اس بات چیت کو اپنے زاویے سے دیکھ رہا ہے۔ بھارت نے اس کاپاگل پن کی حد تک اثر لیا ہے۔ بھارت میں حکومت مخالف سیاسی جماعتیں ہی نہیں، اپنوں کی نظر میں بھی وزیراعظم مودی کا کردار ایک سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔ کیونکہ مودی نے حقائق کا سامنا کرنے سے کتراتے ہوئے صدر ٹرمپ کی بات چیت کی پیشکش مسترد کردی ۔
آئی ایس پی آرکے مطابق صدر ٹرمپ سے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ظہرانے پر بات چیت کی ۔اس موقع پرامریکی سیکرٹری خارجہ مارکوروبیو،نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطی اسٹیووٹکوف اور پاکستان کی قومی سلامتی کے مشیرلیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک بھی موجود تھے۔ صدر ٹرمپ نے ملاقات میں علاقائی امن واستحکام کیلئے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی۔ انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان انسداد دہشت گردی کے مضبوط تعاون کا بھی اعتراف کیااور اسے جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ تجارت سمیت پاکستان کے معدنی سیکٹر میں سرمایہ کاری،کرپٹو کرنسی اور توانائی سمیت دیگر شعبوں میں تعاون پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔امریکی صدر نے پاکستان کے ساتھ باہمی فائدہ مند تجارتی شراکت داری میں دلچسپی ظاہر کی ۔آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں ایران اور اسرائیل کے درمیان موجودہ کشیدگی پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیااور دونوں کی طرف سے اس تنازعہ کے پرامن حل پر زور دیا گیا۔اس تاریخی ملاقات سے قبل اور اختتام پر صدر ٹرمپ نے وائٹ ہائوس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت دوایٹمی طاقتیں ہیں، فیلڈ مارشل عاصم منیرملک کی بااثر شخصیت ہیں اور پاک بھارت کشیدگی روکنے میں ان کا کردار پاکستان کی طرف سے انتہائی موثر رہا،جس کے اعتراف میں اور شکریہ ادا کرنے کیلئے میں نے انہیں مدعو کیا،آج ان سے ملاقات کرکے خود کو معزز محسوس کررہا ہوں۔صدر ٹرمپ نے وہ الفاظ پھر دہرائے، جنہیں وزیراعظم مودی نے اپنی چڑ بنالیا ہے کہ پاک بھارت جنگ امریکا نے بند کروائی۔
وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی صدر ٹرمپ سے ملاقات کئی ماہ پہلے طے تھی ،جسے آپریشن بنیان مرصوص اور جنگ بندی کے تناظر میں امریکی صدر کی طرف سے مزید عزت وتوقیر ملی ۔خواجہ آصف کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ اس ملاقات کے نہ صرف خطے میں بلکہ اس سے باہر بھی خوشگوار اثرات مرتب ہونگے۔ اس ملاقات کے تناظر میں اب وقت آگیا ہے کہ امریکی قیادت اگر خطے میں واقعی پائیدار امن چاہتی ہے تو اسے ایران اسرائیل جنگ بندی سمیت بھارت کو مسئلہ کشمیر پر مذاکرات کی میز پر لاتے ہوئے اپنے وعدے کی پاسداری کرنی چاہئے۔ بصورت دیگر صورتحال پہلے سے زیادہ گھمبیر اور اس کے اثرات انتہائی ہولناک ہوسکتے ہیں۔بھارت میں پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کے سوگ میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی صدر ٹرمپ سے ملاقات نے یہ تاثر مزید گہرا کر دیا ہے کہ غیر ذمہ دار جنونی بھارت کے مقابل پاکستان امن پسند ذمہ دار ریاست ہے ۔ علاقائی تنازعات کی آگ میں تیل چھڑکنے کے بجائے پاکستان امن ترقی اور باہمی معاشی مفادات کے فروغ کے لیے ہمیشہ دست تعاون دراز کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: فیلڈ مارشل عاصم منیر پاکستان کی کی صدر
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔