آبنائے ہرمز بند کرنا ایران کی ایک اور بھیانک غلطی ہوگی، مارکو روبیو WhatsAppFacebookTwitter 0 22 June, 2025 سب نیوز

واشنگٹن (سب نیوز)امریکا کا کہنا ہے کہ ایران اگر آبنائے ہرمز بند کرتا ہے تو یہ ایک اور بھیانک غلطی ہوگی۔
اپنے حالیہ انٹرویو میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ ایران نے امریکی حملوں کے بعد اگر جوابی کارروائی کی تو یہ ان کی تاریخ کا بدترین فیصلہ ہوگا، ہم ایران کیساتھ جنگ کے خواہشمند نہیں اور ایرانی حکومت کی تبدیلی بھی ہمارا ہدف نہیں۔
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکہ ایران سے بات چیت کے لیے تیار ہے۔مارکوروبیو نے دعوی کیا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار بنانے کے لیے درکار ہر چیز موجود ہے جبکہ ایران کے پاس 9 یا 10 ایٹم بم بنانے کیلیے افزودہ یورینیم بھی موجود ہے، یہ سب کچھ موجود تھا لیکن اب اتنا نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز بند کرتا ہے تو یہ ایک اور بھیانک غلطی ہوگی اور یہ ایران کے لیے معاشی خودکشی ہوگا جبکہ آبنائے ہرمز بند ہوئی تو ہمارے پاس نمٹنے کے اختیارات موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ فی الحال ایران کے خلاف مزید فوجی آپریشنز کی منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔
مارکوروبیو نے سوال اٹھایا کہ ایران کا خلائی پروگرام آخر کیوں ہے؟ کیا وہ چاند پر جانے کی کوشش کر رہے ہیں؟ نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی بین البراعظمی بیلسٹک میزائل بنانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ اس پر جوہری وارہیڈ نصب کر سکیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرخطے کی موجودہ صورتحال، وزیراعظم نے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس کل طلب کر لیا خطے کی موجودہ صورتحال، وزیراعظم نے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس کل طلب کر لیا حملہ کرنیوالے امریکی طیارے کہاں ہیں ، پتہ لگا لیا ، پاسداران انقلاب امریکا نے ایران کو جوہری تنصیبات پر حملے کی پیشگی اطلاع دی تھی، ایرانی میڈیا کا دعوی جوہری تنصیبات پر امریکی حملہ، ایرانی پارلیمنٹ نے آبنائے ہرمز بند کرنے کی منظوری دیدی ملک ابراراحمدکی پارٹی کیلئے گراں قدرخدمات ہیں جسکی بدولت چیئرمین قائمہ کمیٹی منتخب ہونا اعزازکی بات ہے، چوہدری محمد یسین امریکی حملے کے بعد سفارتکاری کی گنجائش نہیں، ایران کا حق دفاع کے تحت جواب دینے کا اعلان TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: کہ ایران ایران کے کا کہنا کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
  • عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم