خضدار: قبائلی رہنما میر عطا الرحمان مینگل قاتلانہ حملے میں جاں بحق، بیٹا زخمی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
بلوچستان کے ضلع خضدار کی تحصیل وڈھ میں نامعلوم افراد کے مسلح حملے میں معروف قبائلی شخصیت میر عطا الرحمان مینگل جاں بحق ہوگئے جبکہ ان کے بیٹے مطیع الرحمان مینگل شدید زخمی ہوگئے۔
لیویز حکام کے مطابق فائرنگ کا واقعہ آڑ نجی کے علاقے آواک میں پیش آیا، جہاں مسلح افراد نے میر عطا الرحمان مینگل کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کردی۔ شدید زخمی حالت میں میر عطا الرحمان کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔
واقعے میں ان کے صاحبزادے مطیع الرحمان مینگل کو بھی گولیاں لگیں، جنہیں تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔
میر عطا الرحمان مینگل کون تھے؟
میر عطا الرحمان مینگل بلوچستان کے سابق نگراں وزیراعلیٰ میر محمد نصیر مینگل کے بڑے صاحبزادے تھے۔ وہ مقامی سطح پر ایک بااثر قبائلی شخصیت اور امن و امان سے متعلق معاملات میں سرگرم سمجھے جاتے تھے۔
میر عطا الرحمان مینگل کے قتل کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی، اور علاقے میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ مقامی قبائلی رہنماؤں، عمائدین اور سیاسی شخصیات نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔
لیویز حکام نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق قتل کی وجوہات تاحال سامنے نہیں آ سکیں، تاہم حکام مختلف پہلوؤں سے معاملے کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان خضدار قبائلی رہنما میر عطاالرحمان مینگل وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان قبائلی رہنما وی نیوز میر عطا الرحمان مینگل
پڑھیں:
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
فائل فوٹو۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔