data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ الخدمت کا “بنو قابل” پروگرام اب امید سے یقین تک کا سفر بن چکا ہے، جو ملک بھر کے نوجوانوں کے لیے ایک نئی روشنی کی کرن ثابت ہو رہا ہے۔

ایجوکیشن ایکسپو 2025 میں منعقدہ بنو قابل 3.

0 کی گریجویشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا  کہ صرف کراچی میں اب تک 50 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات بنو قابل پروگرام کے تحت مفت آئی ٹی کورسز مکمل کر چکے ہیں، جبکہ بنو قابل 3.0 میں شامل مزید 5 ہزار طلبہ نے حال ہی میں گریجویشن مکمل کی۔

منعم ظفر خان کا کہنا تھا کہ یہ پروگرام حافظ نعیم الرحمٰن کے ویژن کے تحت شروع کیا گیا تاکہ تعلیم یافتہ مگر بے روزگار نوجوانوں کو جدید آئی ٹی مہارتوں سے آراستہ کر کے انہیں روزگار کے قابل بنایا جا سکے۔ الخدمت اس وقت شہر بھر میں 55 آئی ٹی ٹریننگ سینٹرز چلا رہی ہے جہاں روزانہ صبح 9 سے رات 10 بجے تک کلاسز جاری رہتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ الخدمت نوجوانوں کو 28 سے زائد آئی ٹی کورسز مفت فراہم کر رہی ہے اور انکوبیشن سینٹرز کے ذریعے انہیں ورک اسپیس اور روزگار کے مواقع بھی فراہم کیے جا رہے ہیں۔

منعم ظفر خان کاکہنا تھا کہ گریجویشن کے بعد نوجوانوں کو ملازمتوں سے جوڑنے کے لیے الخدمت نے qabil.jobs کے نام سے ایک جاب پورٹل بھی قائم کیا ہے، جہاں ملک بھر کے آئی ٹی ادارے رجسٹرڈ ہیں اور بنو قابل کے گریجویٹس کا مکمل ڈیٹا موجود ہے۔ ادارے اپنی ضرورت کے مطابق نوجوانوں کو ملازمتوں کی پیشکش کر رہے ہیں۔

منعم ظفر خان نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ مایوسی سے باہر نکلیں، بنو قابل ان کے لیے خوداعتمادی، ہنر اور روزگار کی راہ ہےیہ نوجوان ہی پاکستان کا اصل سرمایہ ہیں اور الخدمت ان کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کی جدوجہد کر رہی ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نوجوانوں کو آئی ٹی

پڑھیں:

نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا

 

 

بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

Huge crowd of students floods roads of Nashik.

Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY

— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026

ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘  کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔

دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج

یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم