چینی کا بحران: سیاسی منافع خوروں کا کھیل
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان میں چینی کا بحران کوئی نئی بات نہیں۔ ہر چند ماہ بعد قیمتوں میں اچانک اضافہ، قلت کا شور، اور پھر امپورٹ کے اعلانات کا سلسلہ، یہ سب ایک پرانے اسکرپٹ کا حصہ لگتا ہے جس کا مقصد صرف اور صرف مخصوص گروہوں کو فائدہ پہنچانا ہے، جبکہ اس کا خمیازہ عام شہری بھگتتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں چینی کی قیمت رمضان کے دوران 140 روپے فی کلو سے بڑھتے بڑھتے 180 روپے تک جا پہنچی ہے۔ ایک ہفتے کے دوران چینی کی اوسط قیمت میں 3 روپے 77 پیسے فی کلو کا اضافہ ہوا، ملک میں چینی کی اوسط قیمت 180 روپے 93 پیسے فی کلو ہے اورگزشتہ ہفتے تک چینی کی اوسط قیمت 177 روپے 16 پیسے فی کلو تھی، ایک سال قبل ملک میں چینی کی اوسط قیمت 143 روپے 38 پیسے فی کلو تھی۔ اس بحران کو قابو میں لانے کے لیے حکومت نے 5 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو وقتی ریلیف ضرور ہو سکتا ہے، لیکن بحران کی جڑیں کہیں گہری اور منظم ہیں۔ پاکستان میں اس وقت 80 شوگر ملیں موجود ہیں، جن میں سے تقریباً 50 فی صد پنجاب، 11 فی صد سندھ اور 9 فی صد خیبر پختون خوا میں واقع ہیں۔ ان ملوں کی مجموعی سالانہ پیداواری استعداد 67 ملین ٹن ہے۔ اتنی بڑی صنعت کے باوجود پاکستان آج بھی چینی کی طلب و رسد کے بحران سے دوچار ہے، جو کہ نہ صرف اقتصادی ناکامی کی علامت ہے بلکہ ایک مافیا کی موجودگی کا پتا بھی دیتا ہے جو ملکی معیشت اور عوامی مفاد کو یرغمال بنائے بیٹھا ہے۔ ماضی میں 2009، 2017 اور 2020 جیسے برسوں میں بھی چینی کے مصنوعی بحران سامنے آ چکے ہیں۔ 2020 کی شوگر انکوائری کمیشن رپورٹ میں یہ واضح کیا گیا کہ قیمتوں میں ہوشربا اضافے، ذخیرہ اندوزی، سٹہ بازی اور سبسڈی کے ناجائز استعمال کے پیچھے وہی طاقتور افراد ہیں جو ملک کی سیاست، صنعت اور معیشت پر بیک وقت قابض ہیں۔ سندھ اور پنجاب کی شوگر ملز کا اگر تفصیلی جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ان میں اکثریت ان خاندانوں کی ہے جن کے نمائندے حکومتوں میں شامل رہے ہیں یا آج بھی بااثر سیاسی کردار ادا کر رہے ہیں۔ اب حکومت نے چینی کے ذخیرہ اندوزوں اور سٹہ بازوں کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے، جو ایک خوش آئند اور عوامی توقعات سے ہم آہنگ قدم ہے۔ وزیراعظم کی ہدایت پر ایف آئی اے، آئی بی، ایف بی آر، اسٹیٹ بینک اور دیگر اداروں کو مکمل اختیارات دیے جا چکے ہیں۔ وزیراعظم نے بلاتفریق کارروائی کی ہدایت کی ہے تاکہ ان عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے جو مصنوعی مہنگائی کے ذمے دار ہیں۔ آئندہ دنوں میں چھاپے، گرفتاریاں اور سخت اقدامات متوقع ہیں۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آیا یہ کریک ڈاؤن وقتی دباؤ کے تحت ہے یا واقعی کسی دیرپا پالیسی کا حصہ؟ کیونکہ اگر ماضی کی طرح یہ کارروائیاں بھی سیاسی مصلحتوں کی نذر ہو گئیں، یا صرف چھوٹے مچھلیوں پر ہاتھ ڈالا گیا تو بحران کی جڑیں مزید مضبوط ہو جائیں گی۔ چینی جیسے بنیادی غذائی آئٹم کی قیمت کو صرف ’’مارکیٹ فورسز‘‘ کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا ریاستی کمزوری کی علامت ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت چینی کی پیداوار، تقسیم، قیمتوں اور برآمدات پر مکمل اور مؤثر نگرانی کا نظام قائم کرے۔ شوگر ملز کی ملکیت، منافع اور اسٹاک کا ریگولر آڈٹ ہو، اور قیمتوں کا تعین کسی خودکار اور شفاف نظام کے تحت ہو۔ یہ بحران محض چینی کا نہیں، ریاستی بحران کی ایک علامت ہے۔ حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ عوام کے ساتھ کھڑی ہے یا منافع خوروں کے ساتھ۔ اس بحران سے نمٹنے کے لیے صرف پالیسیاں کافی نہیں، بلکہ نیت، شفافیت اور جرأت مندانہ فیصلے درکار ہیں۔ اگر اس بار حکومت نے یہ موقع ضائع کر دیا تو نہ صرف چینی کی قیمتیں مزید بڑھیں گی، بلکہ عوام کا نظام پر اعتماد بھی مزید کمزور ہو گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چینی کی اوسط قیمت پیسے فی کلو میں چینی
پڑھیں:
5 دنوں میں پٹرول اور ڈیزل اوسطاً 54 روپے بڑھا دیا گیا: تیمور جھگڑا
تیمور جھگڑا - فوٹو: فائلاپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ 5 دنوں میں پٹرول اور ڈیزل اوسطاً 54 روپے بڑھایا گیا ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے تیمور سلیم جھگڑا کا کہنا تھا کہ پٹرول کی قیمت بڑھانے پر وزیراعظم کی بجائے وزیر پیٹرولیم قیمت بتاتے رہے ہیں، جب وفاقی وزرا تھک گئے تو اوگرا کو کہا کہ آپ خود قیمتیں ایڈجسٹ کریں گے۔
پٹرول کی قیمتیں روزانہ بڑھائی جا رہی ہے، گزشتہ 5 دنوں میں پیٹرول اور ڈیزل اوسطاً 54 روپے بڑھایا گیا ہے۔
پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا گیا ہے: نوٹیفکیشن
انہوں نے کہا کہ بھارت میں پیٹرول 293 روپے، ڈیزل 274 روپے لیٹر تھا جو تبدیل نہیں کیا گیا۔
اس دوران سابق گورنر سندھ محمد زبیر عمر کا کہنا تھا کہ ہمیں تحفظات ہیں، آئی ایم کے ساتھ جو معاہدہ کیا جارہا ہے وہ کیا ہے؟
انہوں نے کہا کہ امریکا سے 10 بلین ڈالر ملیں گے تو بتایا جائے کہ کیا بات ہوئی، بتایا جائے یہ کس مد میں پاکستان کو ملیں گے؟