مستقبل چین میں ہے” غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اتفاق رائے بن گیا ، چینی میڈیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
مستقبل چین میں ہے” غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اتفاق رائے بن گیا ، چینی میڈیا WhatsAppFacebookTwitter 0 22 June, 2025 سب نیوز
بیجنگ : حال ہی میں اختتام پذیر ہونے والی ملٹی نیشنل کارپوریشنوں کے رہنماؤں کی چھٹی چھنگ ڈاؤ سمٹ میں اٹلی کے ای این آئی گروپ کے چین میں چیئرمین جیووانی نے کہا “چینی مارکیٹ نہ صرف مواقع سے بھری ہوئی ہے بلکہ قابل اعتماد اور غیر متزلزل بھی ہے۔ میرے خیال میں مستقبل چین میں ہے۔” اجلاس میں بہت سے غیر ملکی کاروباری اداروں کے ایگزیکٹوز کا خیال تھا کہ چینی مارکیٹ کے “بے مثال فائدے” ہیں۔
ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لئے چین کے پہلے قومی سطح کے اقتصادی اور تجارتی ایونٹ کے طور پر ، اس سمٹ میں 465 ملٹی نیشنل کمپنیوں کے 570 مہمانوں نے شرکت کی ، جو ایک ریکارڈ بلند سطح ہے۔ سمٹ میں دستخط کیے گئے معاہدوں کی مجموعی رقم 5.
سمٹ میں شرکت کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں کا خیال ہے کہ “چینی آر اینڈ ڈی” عالمی ترتیب میں ناگزیر ہے۔ یہاں مارکیٹ، ٹیلنٹ اور جدت طرازی کے وسائل کا بھرپور استعمال کرکے ہی اپنی عالمی مسابقتی صلاحیت کو مستحکم کیا جا سکتا ہے۔ ان کا ماننا تھا کہ قابل تجدید توانائی، سمندری پانی کی ڈی سیلینیشن، اور ہائیڈروجن توانائی کے شعبوں میں چین کی سبز تبدیلی تیزی سے ترقی کر رہی ہے.
آج، سرمایہ کاری کی سہولت اور ٹارگٹڈ خدمات کے ذریعے، چین غیر ملکی کمپنیوں کے لئے ایک وسیع گنجائش فراہم کر رہا ہے. غیر ملکی کمپنیاں چین میں اپنی سرمایہ کاری میں تیزی لا رہی ہیں۔ رواں سال کے پہلے پانچ ماہ میں چین کی ہائی ٹیک صنعتوں میں ای کامرس سروسز، ایرو اسپیس اینڈ ایکوپمنٹ مینوفیکچرنگ، کیمیکل مینوفیکچرنگ اور طبی سازوسامان کی مینوفیکچرنگ میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے حقیقی استعمال میں بالترتیب 146 فیصد، 74.9 فیصد، 59.2 فیصد اور 20 فیصد اضافہ ہوا۔ افراتفری اور تبدیلیوں کے دور میں، غیر ملکی کمپنیوں کا عمل ظاہر کرتا ہے کہ چین کے ساتھ جڑ کر ہی دنیا کے ساتھ بہتر طور پر جڑا جا سکتا ہے۔ چین میں سرمایہ کاری ہی مستقبل کی سرمایہ کاری ہے.
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایران نے اسرائیل پر خیبر شکن میزائل داغنے کی ویڈیو جاری کردی تنخواہ دار طبقے کے ٹیکس سلیب اور نان فائلر کے کیش نکلوانے کی حد میں تبدیلی منظور سنگاپورچین کے ساتھ مزید تعاون کا خواہاں ہے، وزیر اعظم سنگاپور تہذیبوں کے مابین باہمی سیکھنے کے عمل کو جاری رکھنا چاہئے، چینی نائب وزیر اعظم چائنہ ساؤتھ ایشیا ایکسپو میں شرکت کیوں ضروری ہے؟ ملک میں ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی کا پارہ صفر اعشاریہ 27فیصد بڑھ گیا حکومت کا 5سال پرانی گاڑیوں کی کمرشل امپورٹ کی اجازت دینے کا فیصلہ
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔