کیا انٹرنیشنل کرکٹ میں واپس آئیں گے؟ محمد عامر نے واضح کردیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
کیا محمد عامر انٹرنیشنل کرکٹ میں واپس آرہے ہیں؟ فاسٹ بولر نے اس حوالے سے واضح مؤقف دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: محمد عامر اور عماد وسیم کا انگلینڈ کی فرنچائز نادرن سپر چارجرز سے معاہدہ
قومی ٹیم کے سابق فاسٹ بولر محمد عامر نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ گزشتہ چند روز سے یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ وہ انٹرنیشنل کرکٹ میں کم بیک کرنے اور ریٹائرمنٹ واپس لینے جا رہے ہیں، لیکن یہ بات درست نہیں۔
محمد عامر نے کہا کہ میری کسی سے واپسی یا ریٹائرمنٹ کے فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی اور نہ ہی میرا کوئی پلان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریٹائرمنٹ کے بارے میں جو فیصلہ کیا تھا وہ حتمی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 2009 ٹی20 ورلڈ کپ فائنل کے لیے محمد عامر نے کیا خصوصی تیاری کی تھی؟
انہوں نے مزید کہا کہ میرے مداح چاہتے ہیں کہ میں دوبارہ میدان میں نظر آؤں لیکن اب پاکستان کرکٹ کو آگے بڑھنا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بین الاقوامی کرکٹ پاکستان فینز محمد عامر واپسی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بین الاقوامی کرکٹ پاکستان فینز واپسی
پڑھیں:
99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
بنگلا دیش کے وزیر خارجہ خالد الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس (2026-2027) کے لیے صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ انہوں نے ایک سخت اور قریبی مقابلے میں قبرص کے امیدوار آندریاس ایس کاکورس کو شکست دی۔
193 رکنی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والی رائے شماری میں خالد الرحمان نے 99 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے حریف آندریاس کاکورس کو 91 ووٹ ملے۔ انتخاب میں کوئی رکن ملک غیر حاضر یا غیر جانبدار نہیں رہا۔ کامیابی کے لیے 96 ووٹ درکار تھے۔
اقوام متحدہ کے قواعد کے مطابق جنرل اسمبلی کے صدر کا انتخاب ہر سال تمام رکن ممالک کی خفیہ رائے شماری کے ذریعے کیا جاتا ہے اور ہر ملک کو ایک ووٹ کا حق حاصل ہوتا ہے۔
اگرچہ یہ انتخاب باضابطہ طور پر مسابقتی ہوتا ہے، تاہم عمومی طور پر مختلف علاقائی گروپوں کے درمیان باری باری صدارت کا اصول اپنایا جاتا ہے۔
81 ویں اجلاس کے لیے ایشیا پیسیفک گروپ کو امیدوار نامزد کرنے کا حق حاصل تھا، جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش اور قبرص کے حمایت یافتہ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا۔
خالد الرحمان ستمبر 2026 میں جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کے آغاز پر اپنے عہدے کا باضابطہ چارج سنبھالیں گے اور ایک سال تک اس منصب پر فائز رہیں گے۔ اس دوران وہ جنرل اسمبلی کے اجلاسوں کی صدارت، عالمی مسائل پر مباحثے کی نگرانی اور رکن ممالک کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری ادا کریں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کامیابی عالمی سفارت کاری میں بنگلا دیش کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدارت کو ایک اہم سفارتی منصب سمجھا جاتا ہے جو عالمی امن، ترقی، ماحولیاتی تبدیلی اور اقوام متحدہ کی اصلاحات جیسے اہم معاملات پر اثر انداز ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خالد الرحمان کو کامیابی پر مبارکباد دی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ خالد الرحمان کا وسیع سفارتی تجربہ اور کثیرالجہتی تعاون کے لیے ان کی وابستگی جنرل اسمبلی کی مؤثر قیادت میں اہم کردار ادا کرے گی۔
Heartiest felicitations to my dear brother, H.E. Dr. Khalilur Rahman, Foreign Minister of Bangladesh on his election as President of the 81st Session of the UN General Assembly.
Having had closely engaged with him, I am confident that his vast diplomatic experience and steadfast…
اسحاق ڈار نے امید ظاہر کی کہ اقوام متحدہ میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہوگا اور عالمی امن، پائیدار ترقی اور بین الاقوامی مکالمے کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رہیں گی۔