محکمہ ٹرانسپورٹ،کراچی کے بی آر ٹی، اورنج لائن منصوبے برسوں سے ادھورے
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
5ارب 90 کروڑ لاگت کابی آر ٹی اورنج لائن کا منصوبہ سال 2014سے تاحال نا مکمل
12ارب کے بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبہ پر آئندہ مالی سال کے لئے 2ارب خرچ ہونگے
کراچی کی بی آر ٹی اورنج لائن، ریڈ لائن اور ییلو لائن کے لئے بجٹ میں 5ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، جبکہ کئی سال گذرنے کے باوجود منصوبے مکمل نہ ہو سکے ۔ جرأت کی رپورٹ کے مطابق محکمہ ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ کے بجٹ دستاویز میں تحریر ہے کہ بی آر ٹی اورنج لائن کا منصوبہ سال 2014 میں شروع کیا گیا اور یہ منصوبہ 5ارب 90 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل ہونا ہے ، آئندہ مالی سال یعنی 2025-26 کے دوران ایک ارب 41کروڑ روپے مختص ہوئے ہیں، منصوبے پر 70فیصد سے زائد کام کیا گیا ہے اور محکمہ ٹرانسپورٹ کا دعویٰ ہے کہ آئندہ مالی سال میں منصوبہ مکمل ہوگا۔ بی آر ٹی ریڈ لائن کا منصوبہ 12ارب روپے کا ہے اور آئندہ مالی سال کے لئے 2 ارب روپے خرچ ہونگے ، منصوبے پر 73فیصد کام مکمل کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے ۔ کراچی اربن موبلٹی پروجیکٹ کے تحت ییلو لائن منصوبہ 2 ارب 59 کروڑ روپے کا ہے ، آئندہ مالی سال میں 2 ارب روپے خرچ ہونگے ، محکمہ ٹرانسپورٹ کا دعویٰ ہے کہ منصوبے پر آئندہ مالی سال میں 84فیصد کام مکمل ہو جائے گا۔ کراچی سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں چلنے والی بسوں میں مزید اضافہ کیا جائے گا اور ایک ارب روپے کی بسیں خرید ی جائیں گے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان
پشاور (بیورو رپورٹ) خیبر پی کے کے علماء کرام نے سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ بھرپور تعاون کا اعلان کر دیا۔ اس ضمن میں محکمہ صحت خیبر پی کے نے یونیسیف کے تعاون سے متحدہ علماء بورڈ خیبر پی کے اور تنظیمات المدارس خیبر پی کے کے اشتراک سے سرویکل کینسر سے بچاؤ کے موضوع پر ایک اہم مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ ورکشاپ میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے ممتاز علماء کرام نے شرکت کی۔ ورکشاپ کا مقصد علماء کرام اور محکمہ صحت کے درمیان اعتماد، تعاون اور مشترکہ کوششوں کو فروغ دینا تھا تاکہ خواتین اور بچیوں کو سروائیکل کینسر سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر آگاہی پیدا کی جا سکے۔ اجلاس کے دوران علماء کرام نے اس اقدام کو سراہا اور کئی اہم سفارشات پیش کیں۔ انہوں نے ویکسین کے اجزاء، حفاظت اور تیاری کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنے، سوشل میڈیا، ٹی وی، ریڈیو، جمعہ کے خطبات، بل بورڈز، ہسپتالوں اور دیگر ذرائع سے بھرپور آگاہی مہم چلانے، علماء اور ماہر ڈاکٹروں کی مشاورت سے مشترکہ فتویٰ جاری کرنے، کینسر کے ماہرین اور علماء کے درمیان مسلسل رابطہ رکھنے، تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر چلنے، بچیوں کی رازداری اور پردے کا مکمل خیال رکھنے اور محکمہ صحت کی قیادت میں آگاہی مہم کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔