Express News:
2026-06-03@08:42:40 GMT

بجٹ کی منظوری سے قبل 36 ارب کا منی بجٹ

اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT

اسلام آباد:

نئے بجٹ کی منظوری سے قبل حکومت نے 36 ارب کے نئے منی بجٹ اور نان فائلز پرپابندیوں میں نرمی کی تجاویز پیش کر دیں۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق 36 ارب کے مالی اقدامات کی تجویز ایف بی آر نے دی۔ چیئرمین ایف بی آر کے مطابق اس کا مقصد سولر پینلز میں سیلز ٹیکس میں کمی پوری اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کیلیے فنڈز کا حصول ہے۔

منی بجٹ میں ایک دن کے چوزے پر10روپے ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنا شامل ہے، اس کے لیے فیڈرل ایکسائز ایکٹ میں ترمیم کی تجویز دی گئی ہے، نان فائلرزپر پابندیوں سے نرمی سے معیشت اور تجارت پر منفی اثرات کے خدشات دورکرنے میں مدد ملے گی۔

نئے بجٹ کی منظوری سے قبل حکومت نے کل462 ارب روپے کے نئے ٹیکس عائد کیے ہیں،ان میں میوچل فنڈز میں کمپنیوں کی سرمایہ کاری اور سرکاری قرضوں پرسرمایہ کاری سے آمدنی پرٹیکس کی شرح بڑھانا شامل ہے۔

حکومت نے نان فائلز کیلیے کار، گھر ، پلاٹ کی خریداری، سکیورٹیز میں سرمایہ کاری اور بینک اکاؤنٹس پر پابندی میں نرمی پر اتفاق کیا، تاہم اس کا اطلاق 70 لاکھ کی گاڑی،10 کروڑ سے زائد کے کمرشل پلاٹ،5 کروڑ سے زائد کا گھر، اسٹاک مارکیٹ میں سالانہ5 کروڑ سے زائد کی سرمایہ کاری کرنیوالوں پر نہیں ہو گا۔

سید نوید قمر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی فنانس کمیٹی نے نئے ٹیکس اقدامات کی منظوری دیدی۔ واضح رہے کہ آئی ایم ایف نے ایک دن کے چوزے پر 5 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی حکومتی تجویز مسترد کر دی تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کی منظوری

پڑھیں:

بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز

وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ(Budget) میں جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی تجاویز تیار کر لی ہیں، جن کا مقصد ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کرنا ہے۔

ذرائع کے مطابق بجٹ تجاویز کے تحت فائلرز کے لیے غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر عائد ٹیکس کی شرح موجودہ 1.5 فیصد سے کم کر کے 0.25 فیصد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح جائیداد کی فروخت پر عائد ٹیکس کو 4.5 فیصد سے کم کر کے 1.5 فیصد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ان اقدامات کے ذریعے پراپرٹی مارکیٹ میں موجود جمود کو ختم کرنا چاہتی ہے تاکہ خرید و فروخت کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو اور تعمیراتی شعبہ دوبارہ متحرک ہو سکے۔

تاہم ان تجاویز پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف ٹیکسوں میں مجوزہ کمی کی مخالفت کر رہا ہے اور اسے حکومتی آمدن پر ممکنہ اثرات کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔

مزیدپڑھیں:بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا

حکومتی حکام کا مؤقف ہے کہ ٹیکس شرحوں میں کمی سے جائیداد کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھے گی، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں لین دین کا حجم بڑھنے سے مجموعی ٹیکس وصولیوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت کا یہ بھی خیال ہے کہ تعمیراتی سرگرمیوں کے فروغ سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور معیشت کے مختلف شعبوں کو فائدہ پہنچے گا۔

ذرائع کے مطابق ان تجاویز کے حتمی خدوخال آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد آئندہ بجٹ میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ 2026-27: وزیراعظم کی صنعتکاروں سے مشاورت، برآمدات اور سرمایہ کاری بڑھانے پر زور
  • وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز
  • بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر