قومی اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن اور حکومتی ارکان میں ہاتھا پائی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
قومی اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن اور حکومتی ارکان میں ہاتھا پائی WhatsAppFacebookTwitter 0 23 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد:قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اس وقت گرما گرمی ہوگئی جب چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کی تقریر کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے اراکین نے احتجاج کیا۔
پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی نے بلاول بھٹو پر سخت تنقید کی جس پر پیپلزپارٹی کے اراکین شدید غصے میں آگئے اور اسپیکر کے ڈائس تک پہنچ گئے۔
نمائندہ خصوصی سماء سے گفتگو میں حنیف عباسی کا کہنا ہے وزیرخزانہ کو مائیک دینے پر پی ٹی آئی کے دو سے تین لوگوں نے حملہ کیا اور مارنے کیلئے دوڑے تو انہوں نے حملے کو روکا اور ہاتھا پائی ہوگئی۔
حنیف عباسی نے کہا کہ ذاتی طور پر ہاتھا پائی کے حق میں نہیں مگر جب آپ کے گریبان تک ہاتھ پہنچ جائیں تو حق بنتا ہے، اسپیکر نے عمرایوب کو مائیک دیا تو پیپلز پارٹی نے احتجاج کیا۔
انہوں نے کہا کہ وزیرخزانہ کو مائیک دینے پر 2 سے 3 لوگ اٹھ کر آگئے، انہوں نے وزیرخزانہ پر حملہ کیا، مارنے کیلئے دوڑے، میں نے اپوزیش کے حملے کو روکا تو میرے ساتھ اور ساتھی شامل ہوگئے، ایسے واقعات نہیں ہونے چاہئیں، مگرپی ٹی آئی کی سیاست اسی بنیادپر ہوتی ہے، بلاول بھٹو کے بعد وزیرخزانہ نے بات کرنی تھی، یہ طے شدہ تھا۔
واضح رہے کہ بلاول بھٹو کی تقریر کے دوران اپوزیشن کا احتجاج اور نعرے بازی کی۔ اسپیکر نے قائد حزب اختلاف عمر ایوب کو بولنے کی اجازت دی تو جیالے اور ن لیگ والے بھی برہم ہوگئے۔ احتجاج کا جواب احتجاج سے دیا۔ بلاول بھٹو نے پی ٹی آئی کے احتجاج کو بھارتی فنڈنگ سے جوڑ دیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرنومئی کے 8 مقدمات: عمران خان کی ضمانتوں کی درخواست پر فیصلہ محفوظ نومئی کے 8 مقدمات: عمران خان کی ضمانتوں کی درخواست پر فیصلہ محفوظ ٹیکس قوانین میں بہتری لا رہے، صنعتی پالیسی کا اعلان جلد کیا جائے گا: وزیر خزانہ امریکی حملے کے بعد ایرانی فردو جوہری سائٹ کی کیا صورتحال ہے؟ سربراہ آئی اے ای اے کا بیان سامنے آگیا میٹر ریڈرز سے چھٹکارا: وزیر اعظم نے ’’اپنا میٹر، اپنی ریڈنگ ‘‘ ایپ کی منظوری دیدی ایران نے موساد سے وابستہ سائبر ٹیم کے سربراہ کو پھانسی دے دی پہلے وہ لبنان پھر یمن اور اب ایران آگئے، اگر ہم نہ بولے تو وہ ہم پر آئیں گے تو کوئی بولنے والا نہیں...
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: قومی اسمبلی ہاتھا پائی بلاول بھٹو اسمبلی ا ٹی ا ئی
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔