پاکستان انڈیا سے جنگ کرے گا اور چھ دریاؤں کا پانی لے گا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
سٹی42: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نےخبردار کیا ہےکہ انڈیا نے پاکستان کا پانی روکا تو پاکستان اانڈیا سے جنگ کرے گا اور چھ کے چھ دریاؤں کا پانی لے گا۔
بلاول بھٹو نے قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے دوران غیر معمولی خطاب کیا اور کہا پاکستان بھارت تنازعہ پر پاکستان کی پالیسی کی ایک بار پھر صراحت کے ساتھ بیان کیا۔ بلاول بھٹو کے خطاب کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدہ کی وائلیشن کو ہرگز نظر انداز نہیں کرے گا اور اور ایسی کوئی کوشش جنگ پر منتج ہو گی۔
وزیر اعظم کا قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس طلب
پی ٹی آئی کا شور شرابا
بلاول بھٹو کے خطاب کے دوران پی ٹی آئی کے کارکنوں نے شور مچانا شروع کر دیا جو ان کے خطاب کے اختتام تک جاری رہا۔
بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے پر عمل کرے یا جنگ کیلئے تیار رہے، پانی پر جنگ لڑنا پڑی تو اگلی جنگ بھی جیتیں گے۔
بھارت نے پہلگام دہشت گردی کے واقعہ کے بعد سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کا کہا، پانی روکنے کی دھمکی عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، اگر پانی روکا گیا تو ہمیں جنگ لڑنا پڑے گی، ہم جانتے ہیں ہماری افواج، ایئرفورس بالکل تیار ہیں۔
روس اور چین کی ایران پر امریکی حملے کی مذمت
ان کا کہنا تھا کہ اب بھارت کے پاس دو ہی آپشنز ہیں، بھارت سندھ طاس معاہدہ مان لے، اگرسندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرے گا تو ہم 6 کے 6 دریا اپنے عوام کو دلوائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی کوشش تھی کہ پاکستان کو باقاعدہ دہشت گرد ریاست ڈکلیئر کرایا جائے، بھارت نے کوشش کی پاکستان کو آئی ایم ایف کا پیکج نہ ملے، ہر محاذ پر پاکستان جیتا اور بھارت ہارا، ہم نے اقوام متحدہ کے فورم پر اپنا مؤقف پیش کیا، پاکستان کی وزارت خارجہ اور سفیروں کو سلام پیش کرنا چاہتا ہوں۔
شاہدرہ پولیس کی ہنی ٹریپ گروہ کے خلاف کارروائی ، پولیس کانسٹیبل سمیت 2 ملزم گرفتار
اللّٰہ نے پاکستان کو بھارت پر ملٹری کامیابی، بیانیے کی کامیابی اور سفارتی کامیابی دی۔
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: بلاول بھٹو
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔