ایرانی پارلیمنٹ کی آبنائے ہُرمز بند کرنے کی منظوری کے بعد 2 سپر ٹینکرز نے راستہ بدل لیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے اور ایرانی پارلیمنٹ کی جانب سے ’آبنائے ہرمز‘ کی بندش کی منظوری کے بعد خلیج میں داخلے کی واحد سمندری گزرگاہ کے مستقبل کے حوالے سے عالمی خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے، اتوار کو ایران پر امریکی حملے کے بعد آبنائے ہرمز میں موجود 2 سپر ٹینکرز کی جانب سے راستہ بدلنے کا انکشاف ہوا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، تیل لے جانے والے دو بڑے بحری جہاز“کوز وِزڈم لیک“ اور ”ساوتھ لوئیلٹی“ نے اتوار کے روز آبنائے ہرمز میں داخل ہونے کے بعد اپنی سمت تبدیل کر لی۔
بلومبرگ نے جہازوں کے ٹریکنگ ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ دونوں ٹینکرز اُس وقت آبنائے میں موجود تھے جب ایرانی پارلیمنٹ نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی منظوری دی، جس کے بعد یہ یوٹرن لے کر واپس ہو گئے۔
رپورٹ میں اس پیش رفت کو خلیج میں بڑھتے خطرات کے تناظر میں تیل کی سپلائی لائن پر ممکنہ اثرات کی ابتدائی علامت قرار دیا گیا ۔
آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم تیل راہداریوں میں شمار ہوتی ہے۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق، عالمی سطح پر استعمال ہونے والے تیل کا تقریباً 20 فیصد اسی راستے سے گزرتا ہے، جو اسے عالمی معیشت کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے بعد
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران پر امریکی جارحیت کے بعد عالمی توانائی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برطانوی خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کا مربن خام تیل 108 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہونے لگا ہے، جو عالمی منڈی میں توانائی کی بڑھتی ہوئی بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔ادھر قدرتی گیس کی قیمت بھی بڑھ کر 2.95 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (MMBtu) ہو گئی ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں کشیدگی کے اثرات مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔