اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہبازشریف کی زیرصدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ایران پر اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے  کہا گیاہے کہ ایران پر اسرائیلی حملے افسوسناک ہے، اسرائیل خطے میں کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے، شرکاء نے بھارت کی آبی جارحیت سے متعلق دھمکیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا جبکہ قومی سلامتی کمیٹی کا اعلامیہ جاری کردیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اہم ترین اجلاس ہوا۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر داخلہ محسن نقوی، چیئرمین جوائنٹ چیف آف آرمی اسٹاف، تینوں سروسز چیف اور وفاقی وزرا ءشریک ہوئے۔
اجلاس میں ایران اسرائیل جنگ اور امریکی حملوں کے بعد کی صورتحال پر تفصیلی جائزہ لیا گیا، اجلاس میں ایران پر حملوں کے خطے پر اثرات پر بھی غور کیا گیا۔
اجلاس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ دورہ امریکا پر شرکا کو اعتماد میں لیا گیا جب کہ پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کے معاملات پر بھی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں فورم نے بھارت کی آبی جارحیت سے متعلق دھمکیوں پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فورسز بھارتی حرکات پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
قومی سلامتی کمیٹی نے بھارت کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ خطے کو جنگ سے بچانے کے لئے سفارتی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
بعدازاں قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا، جس کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی نے ایران پر اسرائیلی جارحیت پر سخت مذمت کا اظہار کیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی نے مذاکرات کے دوران حملوں کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حملے خطے میں کشیدگی کو ہوا دے رہے ہیں، ایران کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت دفاع کا حق حاصل ہے۔
فورم نے ایران میں بے گناہ جانوں کے ضیاع پر حکومت اور عوام سے اظہار تعزیت کیا اور کہا کہ فردو، نطنز اور اصفہان میں حملے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔
پاکستان نے فریقین سے مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کا مطالبہ کردیا، قومی سلامتی کمیٹی نے انسانی حقوق اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی پاسداری پر زور دیا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ اجلاس کے شرکا نے خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز حکومت کی جانب سے بیان جاری کیا گیا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے قومی سلامتی کمیٹی ( این ایس سی ) کا اجلاس پیر کی دوپہر 12 بجے طلب کرلیا ہے، قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں وزیر دفاع ، وزیر داخلہ، نائب وزیراعظم اور عسکری اور سول قیادت شرکت کرے گی۔
قومی سلامتی کمیٹی میں ایران، اسرائیل، امریکا تنازع پر تفصیلی مشاورت ہو گی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے حالیہ دورہ امریکا پر قومی سلامتی کمیٹی کو اعتماد میں لینا تھا۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: قومی سلامتی کمیٹی نے اجلاس میں میں ایران ایران پر کہا کہ پر بھی

پڑھیں:

بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت

بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات خوف و ہراس پھیلانے اور دباؤ کے ذریعے نافذ کیے جا رہے ہیں، جبکہ قوانین میں بھی ایسی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جو دینی تعلیمات، قرآنی و شرعی نصوص، مذہبی شناخت اور عوامی و شخصی آزادیوں سے متصادم ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین کی جمعیت الوفاق الوطني الاسلامی نے خبردار کیا ہے کہ حکومت نے ایک ایسے اقدام کے ذریعے، جسے اس جماعت نے خطرناک اور جبری قرار دیا ہے، جعفری اوقاف ادارے کو تحلیل کرکے اسے ایک ایسے کونسل میں ضم کر دیا ہے جو سیاسی اقتدار کے زیرِ اثر کام کرتی ہے۔ جمعیت الوفاق کے مطابق یہ اقدام شرعی احکام میں مداخلت، آئین کی خلاف ورزی اور ملک میں مذہبی آزادیوں سے متعلق رائج اصولوں اور روایات پر حملہ ہے۔ الوفاق نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ کئی صدیوں کے دوران بحرین یا دنیا کے کسی دوسرے ملک میں اس نوعیت کی مداخلت کی مثال نہیں ملتی۔ جماعت کے مطابق حکومت نے علاقائی حالات، کشیدگیوں اور جنگی ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جعفری مکتبِ فکر کی مذہبی شخصیات، اداروں اور اوقافی املاک پر قبضے اور مداخلت کی راہ اختیار کی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدامات خوف و ہراس پھیلانے اور دباؤ کے ذریعے نافذ کیے جا رہے ہیں، جبکہ قوانین میں بھی ایسی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں جو دینی تعلیمات، قرآنی و شرعی نصوص، مذہبی شناخت اور عوامی و شخصی آزادیوں سے متصادم ہیں۔ جمعیت الوفاق نے مزید کہا کہ یہ اقدامات شرعی ضوابط کی کھلی اور ناقابلِ قبول خلاف ورزی ہیں، اور انہیں ایسے سکیورٹی اقدامات کے ساتھ نافذ کیا جا رہا ہے جن کا مقصد شہریوں کو احتجاج اور مخالفت سے روکنا ہے۔ جمعیت کے مطابق حکومت نے ان غیر قانونی اقدامات کے لیے پہلے ہی ملک میں ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا تھا جو غیر اعلانیہ ہنگامی حالت سے مشابہ تھا اور جس میں سکیورٹی دباؤ کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیا گیا تھا۔ 

بیان میں کہا گیا کہ یہ سلسلہ سید محمد الموسوی کی مبینہ طور پر دورانِ حراست شہادت اور ان کے جسدِ خاکی کی حوالگی سے شروع ہوا، جس پر تشدد کے آثار نمایاں تھے۔ اس کے بعد بعض خاندانوں کی شہریت منسوخ کرنے، انہیں جبری ہجرت پر مجبور کرنے، مختلف علاقوں سے درجنوں علماء کی گرفتاری اور ان کی تصاویر کی تشہیر جیسے اقدامات سامنے آئے، جنہیں جمعیت نے انتقامی کارروائیاں قرار دیا۔ اسی طرح متعدد مساجد کو ائمہ جماعت سے محروم کرنے، دینی مدارس، حوزاتِ علمیہ اور مذہبی منبروں کی سرگرمیوں کو محدود یا معطل کرنے کا بھی ذکر کیا گیا۔

جمعیت الوفاق کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ موجودہ پالیسی دراصل ملک کی دینی اور سماجی ساخت پر حملے، اداروں کی بندش، املاک کی ضبطی اور ان کے انتظامی ڈھانچے کو تبدیل کرکے ایک "سکیورٹی اور جابرانہ نظم" نافذ کرنے کی تمہید ہے، جو فرقہ وارانہ بنیادوں پر قائم ہے اور شرعی، سماجی، قانونی و انسانی اصولوں کی کوئی پاسداری نہیں کرتا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ فرمان نمبر (31) برائے سال 2026 ایک سیاسی نوعیت کا جبری فیصلہ ہے جو عوامی رضامندی کے بغیر مسلط کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف بحرین کے ایک تاریخی اور اصیل ادارے کو نشانہ بنایا گیا ہے بلکہ ایک ایسا زبردستی کا تغیر نافذ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو صدیوں پر محیط بحران کو جنم دے سکتا ہے۔

جمعیت کے مطابق تاریخ اس اقدام کو بحرینی حکومت کی سب سے بڑی غلطیوں میں شمار کرے گی، کیونکہ یہ فطرت، دین، آزادی اور قانون کے بنیادی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ الوفاق نے زور دیا کہ یہ جبری فرمان ہزاروں اوقاف کی خیانت اور غصب کے مترادف ہے، جو مخصوص شرعی عناوین اور شرائط کے تحت وقف کیے گئے تھے اور جن میں سیاسی مداخلت یا ردوبدل کی کوئی گنجائش نہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ وقف کا شرعی اور قانونی تشخص کسی حکومتی حکم یا فرمان سے تبدیل نہیں ہو سکتا، لہٰذا اس سلسلے میں کیے گئے تمام اقدامات باطل اور شرعی و قانونی جواز سے محروم ہیں۔

جمعیت الوفاق نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فرمان کو فوری طور پر واپس لے اور آمریت، ہٹ دھرمی اور ایسے منصوبے پر اصرار ترک کرے جو صرف طاقت، خوف اور شرعی احکام کی مخالفت کے سہارے ہی جاری رکھا جا سکتا ہے۔ جمعیت کا مزید کہنا تھا کہ شیعہ اور سنی اوقاف کو ایسے انتظامی ڈھانچے کے تحت لانے کی کوشش، جسے مذہبی حلقے قبول نہیں کرتے، اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کے سیاسی نظام کو ازسرِ نو متعین کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ موجودہ نظام شراکت داری، جوازِ حکمرانی اور قومی ہم آہنگی کی بنیادی خصوصیات سے محروم ہو چکا ہے۔ بیان کے اختتام پر جمعیت الوفاق نے ایک "نئے سماجی معاہدے" کی تشکیل کا مطالبہ کیا، جو عوامی اور قانونی بنیادوں پر استوار ہو، تمام شہریوں اور سماجی طبقات کے حقوق کی ضمانت دے اور ان کے مستقبل، شناخت اور آزادیوں کے حوالے سے اعتماد اور اطمینان کو مضبوط بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت