اسلام آباد(نیوز ڈیسک)قومی اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیراعظم اور پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما راجا پرویز اشرف نے بھرپور اور جارحانہ انداز میں خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ارکان پر شدید تنقید کی اور انہیں ذہنی مریضوں کا ٹولہ قرار دیا۔ اور ان کے اس بیان پر ایوان میں ہنگامہ برپا ہوگیا۔

راجا پرویز اشرف نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ بجٹ تقریر میں ہر رکن کو بولنے کا حق ہے، لیکن جب کوئی ایجنڈے سے ہٹ کر ذاتی نوعیت کی بات کرے تو اعتراض ہوتا ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی ارکان کی ہنگامہ آرائی پر کہاکہ یہ صرف شور مچانے والی مشینیں ہیں، ان میں وفا اور سیاسی شائستگی نام کی کوئی چیز نہیں۔

انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کی بجٹ تقریر کو سراہتے ہوئے کہاکہ بلاول بھٹو نے دنیا بھر میں پاکستان کا مقدمہ لڑا، ان کی کامیابیاں پی ٹی آئی کو اپنی ناکامیاں محسوس ہوتی ہیں۔

پی ٹی آئی ارکان کی جانب سے مداخلت پر راجا پرویز اشرف نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ یہ نفسیاتی اور لوٹے لوگ ہیں، جنرل فیض کی پیداوار ہیں، اور اگر یہ حرکتیں کریں گے تو ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیاکہ یہ لوگ کمپرومائزڈ ہیں، انہوں نے اسمبلی کے سیکیورٹی اسٹاف کو بھی ماں بہن کی گالیاں دیں۔ ساتھ ہی یہ بھی کہاکہ عمران خان کے سوا انہیں کوئی جانتا تک نہیں تھا، یہ دھوکے باز اور غدار لوگ ہیں۔

اس دوران پی ٹی آئی ارکان نے بھرپور احتجاج کیا اور نعرے لگائے۔ راجا پرویز اشرف نے جواب میں اپوزیشن کی طرف انگلی اٹھا کر کہا: ’لوٹا لوٹا‘ یہ اپنے بانی چیئرمین کو بھی دھوکا دیں گے۔

ایوان کا ماحول اس قدر کشیدہ ہوا کہ اسپیکر کو مداخلت کرنا پڑی، تاہم راجا پرویز اشرف نے اپنی تقریر جاری رکھی۔
مزیدپڑھیں:مائیکل وان نے شاہین آفریدی کو بابر اعظم سے بہتر ٹی20 کھلاڑی قرار دے دیا

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: راجا پرویز اشرف نے پی ٹی آئی انہوں نے

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن