قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس، اسرائیلی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
قومی سلامتی کمیٹی نے تمام متعلقہ فریقین سے مطالبہ کیا کہ تنازع کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے حل کیا جائے۔ قومی سلامتی کمیٹی نے بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی کے قوانین کی پاسداری پر بھی زور دیا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل کی ایران کے خلاف جارحیت کے تناظر میں وزیراعظم کی زیرِ صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس، کمیٹی نے اسرائیلی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ ذرائع کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی، فیلڈ مارشل، ایئر چیف، نیول چیف، وفاقی وزراء اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا جس کے مطابق عسکری اقدامات نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات کے عمل کو سبوتاژ کیا۔ اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت کے بعد خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
کمیٹی نے ایران کے عوام اور حکومت سے معصوم جانوں کے ضیاع پر اظہارِ تعزیت کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ اجلاس میں پاکستان کے واضح مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کمیٹی نے 22 جون کو فردو، نطنز اور اصفہان میں ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد ممکنہ مزید بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ کمیٹی کے مطابق جوہری تنصیبات پر حملے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی قراردادوں، متعلقہ بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہیں۔ قومی سلامتی کمیٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان متعلقہ فریقین سے قریبی رابطے میں ہے اور علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے لیے اپنی کوششوں اور اقدامات کو جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔ کمیٹی نے تمام متعلقہ فریقین سے مطالبہ کیا کہ تنازع کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق بات چیت اور سفارتکاری کے ذریعے حل کیا جائے۔ قومی سلامتی کمیٹی نے بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی کے قوانین کی پاسداری پر بھی زور دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: قومی سلامتی کمیٹی نے بین الاقوامی کے مطابق
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
برطانوی ایوانِ بالا کے رکن لارڈ قربان حسین نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات نسل کُشی کی طرف جارہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق لارڈ قربان حسین نے برطانوی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی انسانی حقوق کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق وہاں کے حالات نسل کشی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
انہوں نے جینوسائڈ واچ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے برطانوی حکومت سے پوچھا کہ وہ ان انتباہات کو کس حد تک سنجیدگی سے لیتی ہے اور ممکنہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔
جواب میں برطانوی حکومت کی جانب سے پارلیمانی انڈر سیکرٹری لارڈ کولنز نے کہا کہ برطانیہ انسانی حقوق سے متعلق اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے اور بھارتی پولیس یا سکیورٹی فورسز کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی حمایت کرتا ہے۔