مودی کے اقتدار میں اقلیتوں پر حملے معمول بن چکے، مسلمان، عیسائی اور دیگر اقلیتیں مسلسل انتہا پسند ہندوؤں کے نشانے پر ہیں۔

بی جے پی اقتدار میں ہندو انتہا پسندوں کو کھلی چھوٹ جبکہ اقلیتوں کی جان و مال اور عبادات سب خطرے میں ہے۔

بھارتی ریاست اڑیسہ کی عیسائی برادری پر انتہا پسند ہندوؤں کے حملے بڑھنے لگے اور اس حوالے سے بھارتی تجزیہ کار، ڈاکٹر اشوک سوائن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر انتہا پسند ہندوؤں کے ظلم کو آشکار کر دیا۔

ڈاکٹر اشوک سوائن نے بتایا ہے کہ ریاست اڑیسہ کے ضلع ملکانگیری میں عیسائی برادری پر مہلک ہتھیاروں سے بہیمانہ حملہ کیا گیا، ہندوتوا غنڈوں کے بہیمانہ حملے میں 28 افراد شدید زخمی ہوئے، مودی کے بھارت میں کوئی محفوظ نہیں۔

ڈاکٹر اشوک سوین نے کہا کہ حملہ آوروں نے گھروں میں گھس کر خواتین اور بچوں کو بھی نہیں بخشا جبکہ پولیس خاموش تماشائی بنی رہی، اقلیتوں کے خلاف نفرت پر مبنی حملے بی جے پی کی سرپرستی میں ہو رہے ہیں جبکہ مودی سرکار سے انصاف کی کوئی امید باقی نہیں۔

اس حوالے سے بھارتی جریدے نیوز ریل ایشیا کی تحقیقاتی ٹیموں نے عیسائی برادری کی قتل و غارت کے حوالے سے ہوشربا انکشافات کیے۔

تحقیقات کے مطابق ’’ریاست اڑیسہ کے اضلاع نابرانگپور، گجپتی اور بالاسور میں عیسائی برادری تدفین کے بنیادی حق سے محروم ہے۔‘‘

نیوز ریل ایشیا کے مطابق مارچ سے اپریل 2025 کے دوران تین فیکٹ فائنڈنگ ٹیموں نے ریاست اڑیسہ کے تین اضلاع میں عیسائیوں پر بڑھتے مظالم کی تصدیق کی، ضلع نابرانگپور میں 2022 سے 2025 تک عیسائیوں پر حملوں کے 8سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے۔ عیسائی خاندانوں کو اپنے مرحومین کی تدفین سے روکا گیا، ضلع نابرانگپور میں عیسائی نوجوان کی تدفین کے بعد لاش کی چوری، ماں اور بہن پر وحشیانہ تشدد کر کے گھر سے نکال دیا گیا۔

بھارتی جریدے کے مطابق 18 دسمبر 2024 کو بالاسور میں عیسائی نوجوان کی تدفین روکی گئی، قبائلی عیسائیوں کو بائیکاٹ اور دھمکیوں کا سامنا رہا جبکہ بھارتی پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔ ضلع گجپتی میں 22 مارچ 2025 کو جوبا کیتھولک چرچ پر پولیس نے دھاوا بولا، خواتین اور بچیوں پر حملہ جبکہ دو پادریوں کو پاکستانی کہہ کر بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

نیوز ریل ایشیا کے مطابق ضلع گجپتی میں پولیس نے پادری کا کندھا توڑ دیا اور خواتین کی چادریں پھاڑ دیں، عیسائی مذہبی علامات کی بے حرمتی کی گئی دیگر متعدد دیہاتوں میں مسیحیوں کو گاؤں کے قبرستان میں تدفین سے روکا گیا، جنگلوں میں لاشیں دفنانے پر مجبور کیا گیا۔ بھارت میں اقلیتیں جبر کا شکار ہیں جبکہ ریاستی مشینری خاموش تماشائی۔

بھارتی جریدے کے مطابق شکایات کے باوجود کسی اہلکار کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی، مقامی اخبارات نے عیسائیوں کو بدنام کرنے کے لیے جھوٹی خبریں شائع کیں، تین نسلوں سے مسیحی برادری کو اب ’’غیر روایتی‘‘ قرار دے کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اسی طرح، بھارتی جریدے کرسچینٹی ٹوڈے نے ریاست اڑیسہ میں عیسائیوں کے خلاف بدترین تشدد کو آشکار کیا ہے۔

کرسچینٹی ٹوڈے کے مطابق ریاست اڑیسہ فرقہ وارانہ تشدد کے دہانے پر ہے، ضلع نابرانگپور میں فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے انکشاف کیا کہ پولیس اہلکار اقلیتوں پر حملوں میں ملوث ہو کر مظالم میں کردار ادا کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق قبائلی عیسائیوں پر حملوں میں فرقہ وارانہ تعصب اور ذات پات پر مبنی ذہنیت ریاستی اداروں میں سرایت کر چکی ہے۔

مودی سرکار کے دور میں انصاف دفن اور قانون ہندو انتہا پسندوں کا محافظ بن گیا۔ بھارت میں مذہبی آزادی محض دکھاوا ہے اور اقلیتیں ریاستی ظلم کی زد میں ہیں۔ مودی سرکار کے دور میں اقلیتوں کی مذہبی آزادی مکمل خطرے میں جبکہ مودی اپنی جھوٹی تشہیر میں مصروف ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بھارتی جریدے ریاست اڑیسہ انتہا پسند بھارت میں کے مطابق

پڑھیں:

اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی دارالحکومت میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات کار میں توسیع کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، یہ فیصلہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہونے والے کفایت شعاری سے متعلق اجلاس میں کیا گیا۔

اجلاس میں طے پایا کہ اسلام آباد میں دکانیں اور شاپنگ مالز اب رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ شادی ہالز کو رات 10 بجے تک اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت ہوگی۔

اسی طرح ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں بھی نرمی کرتے ہوئے انہیں رات 11 بجے تک کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز کو مقررہ اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے تاکہ شہریوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ فارمیسیوں، اسپتالوں اور پیٹرول پمپس کو ان پابندیوں سے مکمل استثنیٰ حاصل ہوگا اور وہ معمول کے مطابق اپنی خدمات جاری رکھ سکیں گے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق نئے اوقات کار کا مقصد توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہے، جبکہ اس فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق مزید ہدایات جلد جاری کی جائیں گی۔

مزید پڑھیں۔ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (بدھ) کا دن کیسا رہے گا ؟

متعلقہ مضامین

  • پشاور: پسند کی شادی کیلئے گھر سے نکلنے والی لڑکی اور لڑکا قتل
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد