سپاہ پاسداران انقلاب نے پیر کی شب اعلان کیا کہ اس نے قطر میں واقع "العدید بیس" پر ایک تباہ کن اور شدید میزائل حملہ کیا ہے۔ یہ کارروائی "بشارت الفتح" کے عنوان سے کی گئی، جو کہ امریکہ کی حالیہ جارحیت کے جواب میں انجام دی گئی، جس میں ایران کی تین پرامن ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی فوج اور سپاہ پاسداران انقلاب نے ''بشارت الفتح'' کے نام سے قطر میں امریکی فوجی اڈے کو میزائلوں سے نشانہ کر ایٹمی تنصیبات پر جارحیت کا جواب دیدیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سپاہ پاسداران انقلاب نے پیر کی شب اعلان کیا کہ اس نے قطر میں واقع "العدید بیس" پر ایک تباہ کن اور شدید میزائل حملہ کیا ہے۔ یہ کارروائی "بشارت الفتح" کے عنوان سے کی گئی، جو کہ امریکہ کی حالیہ جارحیت کے جواب میں انجام دی گئی، جس میں ایران کی تین پرامن ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ آپریشن اسلامی جمہوریہ ایران کی پرامن جوہری تنصیبات پر مجرم امریکی حکومت کے کھلے فوجی حملے اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی کے ردِعمل میں انجام پایا۔ اس کارروائی کی منصوبہ بندی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل اور خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کی قیادت نے کی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ "العدید بیس" فضائیہ کا مرکز اور مغربی ایشیا میں دہشتگرد امریکی فوج کا سب سے بڑا اسٹریٹیجک اثاثہ ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ مسلح افواج کے انقلابی جوانوں کی یہ فیصلہ کن کارروائی وائٹ ہاؤس اور اس کے اتحادیوں کے لیے واضح پیغام ہے۔ مزید کہا گیا "اسلامی جمہوریہ ایران، اللہ تعالیٰ اور ایمان سے لبریز عظیم ایرانی قوم پر بھروسہ کرتے ہوئے، اپنی سرزمین، خودمختاری اور قومی سلامتی پر کسی بھی قسم کے حملے کو کسی صورت میں بغیر جواب کے نہیں چھوڑے گی۔" بیان کے اختتام پر خبردار کیا گیا کہ خطے میں امریکی اڈے اور متحرک فوجی اہداف قومی دفاع میں طاقت نہیں بلکہ ایک بڑی کمزوری اور اس جنگ پسند نظام کے پہلو میں کانٹے کی مانند ہیں۔ شر کی کوئی بھی تکرار خطے میں امریکی فوجی موجودگی کے زوال کو تیز کرے گی اور ان کے ذلت آمیز انخلاء کا باعث بنے گی، اور اسرائیلی کینسر کے ٹیومر کے خاتمے کے لیے اسلامی امت اور آزاد اقوام کی مشترکہ خواہش کو پورا کرے گی۔

دوسری جانب امریکی ویب سائٹ "Axios" نے ایک اسرائیلی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ ایران نے قطر میں امریکی اڈے کی طرف 10 میزائل فائر کیے۔ اسی دوران، فرانسیسی خبر رساں ایجنسی "AFP" اور "رائٹرز" کے عینی شاہدین نے بتایا کہ قطری دارالحکومت دوحہ کی فضا میں زوردار اور مسلسل دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ العدید ایئر بیس خطے میں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے۔ یہ نہ صرف مشرق وسطیٰ میں حجم، صلاحیت اور افرادی قوت کے لحاظ سے سب سے بڑا ہے، بلکہ امریکی فضائیہ کے لیے آپریشنل اعصاب کا مرکز بھی ہے۔ یہاں سے فضائی حملے، سیٹلائٹ آپریشنز، سینٹکام (CENTCOM) کی قیادت اور ڈرون کنٹرول جیسے امور سرانجام دیے جاتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: بشارت الفتح میں امریکی کہا گیا

پڑھیں:

ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔

روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔

تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔

ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔

مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔

ایران جنگ پر سوالات

کانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔

جنگ کے معاشی اثرات

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا

ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقف

مارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ

روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ

مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان