امریکی حملے کا جواب دینے کے وقت کاتعین ایرانی افواج کرے گی: ایرانی مندوب سعید ایراوانی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
نیویارک(اوصاف نیوز)ایرانی مندوب سعید ایراوانی نےسلامتی کونسل کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر امریکی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
سلامتی کونسل میں ایران کے مندوب سعید ایراوانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایران پرامریکی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا لیکن امریکی حملے کا جواب دینے کے وقت اور نوعیت کا فیصلہ ایرانی افواج کریں گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران پر امریکا کے تمام الزامات بے بنیاد ہیں، امریکا کے الزامات کے سیاسی محرکات ہیں ان کی کوئی قانونی بنیاد نہیں، عدم پھیلاؤ کے معاہدے کو سیاسی ہتھیار میں تبدیل کر دیا گیا جب کہ اسے جارحیت اور غیر قانونی اقدام کے طور پر استعمال کیا گیا۔
ایرانی مندوب سعید ایراوانی کا کہنا تھا کہ ایران پر حملہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے،ایران نےکئی بار امریکا کو جنگ سےدور رہنے کے لیے خبردار کیا تھا لیکن امریکا نے نیتن یاہو کے لیے اپنی سکیورٹی خطرے میں ڈال دی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے حصول سے روکا جا رہا ہے، دنیا ایران کے خلاف طاقت کا مظاہرہ دیکھ رہی ہے، اسرائیلی جارحیت سے پورا خطہ غیرمحفوظ ہوچکا۔
’کھیل ختم نہیں ہوا،اسرائیل کو سرپرائز دینے کا سلسلہ جاری رہے گا،مشیر ایرانی سپریم لیڈرعلی شمخانی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: مندوب سعید ایراوانی کہ ایران پر حملے کا کہا کہ
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔