Express News:
2026-06-02@22:45:02 GMT

امریکی اشتعال انگیز کارروائی کے تباہ کن نتائج

اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT

امریکا نے اپنے جدید ترین بمبار طیاروں کے ساتھ ایران کی تین جوہری تنصیبات فردو، نطنز اور اصفہان کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ انھوں نے حملے میں فردو کے ایٹمی پلانٹ کو مکمل تباہ کردیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے حملے پر صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا، جب کہ دوسری جانب ایران نے امریکا کی جانب سے اپنے جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کردیا ہے۔

اقوام متحدہ امریکا کو ایران، اسرائیل جنگ میں براہ راست شمولیت سے منع کرتی رہی جب کہ یورپ سفارت کاری پر زور دیتا رہا، مسلم ممالک نے او آئی سی اجلاس بلا کر اعلامیہ بھی جاری کیا کہ اس لڑائی میں سفارتکاری کو موقع ملنا چاہیے لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔ امریکا کے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کے بعد یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ اس جنگ میں سفارتکاری کی اب کوئی اہمیت باقی نہیں بچی ہے۔

اسرائیل، امریکا کو اپنے ساتھ جنگ میں شامل کرانے میں کامیاب رہا ہے ۔ اطلاعات یہ ہیں کہ صدر ٹرمپ نے امریکی کانگریس کو اعتماد میں لیے بغیر حملے کا حکم دیا ہے۔ امریکا میں یہ بحث چل رہی ہے کہ جنگ کا فیصلہ صرف کانگریس یا سینیٹ ہی کر سکتی ہے، اس حوالے سے اصل قانون و ضوابط کیا ہیں، اس کے بارے میںتاحال باضابطہ طور پر کچھ نہیں بتایا جارہا ہے۔

اس وقت دنیا میں قیادت کا فقدان ہے، روس کے صدر پوتن یوکرین کے مسئلے میں گھرے ہوئے ہیں جب کہ یورپی یونین میں سوائے فرانس کے کسی ملک نے متحرک کردار ادا نہیں کیا ہے جب کہ برطانیہ نے امریکا کی حمایت کی ہے ۔ بلاشبہ ایران کی ایٹمی تنصیبات پر امریکی فضائی حملہ عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے، کیونکہ یہ اقدام کسی مؤثر بین الاقوامی استثنیٰ کے بغیر کسی طاقت کی نمایندگی کرتا ہے۔

اس طرح کے حملے سے اقوام متحدہ کی اساس اور بین الاقوامی قانونی ڈھانچے کی حرمت متاثر ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن ممالک نے کسی بھی ریاست کو یہ اختیار نہیں دیا کہ وہ بغیر مجوزہ عمل کے کسی دوسری ریاست کی تنصیبات کو نشانہ بنائے۔

اگرچہ امریکا ایک عالمی طاقت اور نیٹو کا اہم رکن ہے، لیکن اس کا یہ قدم اقوام متحدہ اور عالمی معاشرے میں رد عمل کو اشتعال انگیز بنائے گا۔ عالمی سیاسی منظر نامہ میں بھی اس اقدام کے برے اثرات مرتب ہوں گے۔ چین اور روس جیسی سپر پاورز اس اقدام کو براہِ راست مخالفت میں بیان کریں گی۔

چین کے پاس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو پاورز موجود ہے نتیجتاً بین الاقوامی طاقتوں کے بیچ ٹکراؤ کا ماحول مزید کشیدہ ہو جائے گا۔ اس سے ایک نئی سرد جنگ کا بازار گرم ہو سکتا ہے، جس میں عالمی تزویراتی پالیسی، توانائی کے ذرایع اور معیشتیں زبردست دباؤ کا شکار ہو جائیں گی۔

علاقائی سطح پر ایران پر حملہ نئے مسائل جنم دے سکتا ہے۔ ایران اس حملے کا جواب زیادہ تر بیلسٹک میزائلز، فضائی اڈوں پر حملے، یا مشاورتی گروپوں کے ذریعے حملے کے طور پر دے سکتا ہے، نتیجتاً یمن، لبنان، شام اور عراق میں استحکام بری طرح متاثر ہوگا۔ لڑائی کی شدت میں اضافہ خطے میں توانائی کی فراہمی اور بحیرہ عرب کے ذریعے سے عالمی تجارت پر منفی اثرات ڈالے گا۔

بحیرہ احمر میں حالیہ برسوں میں کئی تیل بردار جہاز اور تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا جاچکا ہے، جس سے توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں اور عالمی معیشت بحران میں جا سکتی ہے۔ بحیرہ احمر، خلیج فارس اور بحیرہ عرب میں کشیدگی عالمی تجارت پر ایک بھاری قیمت لا سکتی ہے۔

 اسرائیل اور امریکا کے سخت گیر حکمرانوںکے نقطہ نظر سے ایران کی تنصیبات پر حملہ ایک وقتی کامیابی ہو سکتی ہے، لیکن اس کے نتائج خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ ایران اگر جوابی کارروائی میں اسرائیل کے شمالی علاقوں پر بیلسٹک میزائل حملے کرے، تو شمالی اسرائیل میں انسانی ہلاکتوں اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی میں اضافہ ہوگا۔

شمالی اسرائیل کے بڑے شہروں میں معیشت متاثر ہو سکتی ہے، اقتصادی پہلو سے دیکھیں تو اس کے نتیجے میں تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس سے تیل کی قیمتوں میں اضافے کا قوی امکان ہے۔ تیل پر مبنی معیشت رکھنے والے خطوں میں یہ صورتحال کساد بازاری کا سبب بن سکتی ہے۔

یورپی یونین اور جاپان جیسی تیل درآمد کرنے والی ریاستیں توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے متاثر ہوں گی اور ان کی معیشتوں میں سست روی آ سکتی ہے۔ یہ صورتِ حال کرنسی مارکیٹ کے زوال، درآمدی قیمتوں میں اضافے اور انفلیشن کے دباؤ بشمول غذائی اور توانائی قیمتوں میں اضافے کا باعث بنے گی۔ مشرق وسطی ہی نہیں بلکہ جنوبی ایشیا و وسط ایشیا میں مہنگائی مزید بڑھے گی، اقتصادی استحکام متاثر ہوتا چلا جائے گا اور عوامی سطح پر اندرونی عدم تحفظ پیدا ہوگا۔

 ایک انسانی بحران کے طور پر، جنگ کے بڑھنے سے مہاجرین یا اندرونی بے گھر افراد کی تعداد میں اضافہ متوقع ہے۔ لبنان، عراق و شام میں حالیہ مہاجر بحرانوں سے سبق سیکھتے ہوئے، مستقبل میں بڑے پیمانے پر انسانی نقل مکانی خطے پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔ مہاجرین کی فلاح و بہبود، خوراک، رہائش، صحت، تعلیم اور ملازمت کے مسائل بڑی سماجی، اقتصادی اور سیاسی مشکلات کا باعث بن سکتے ہیں۔ خطے میں سیاسی و معاشی استحکام کمزور ہو کر دہشت گردی اور شدت پسندی کو فروغ دینے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

اس صورتِ حال میں نیٹو اور مغربی طاقتوں کا کردار غیر جانبدار نہیں رہے گا۔ امریکی اور مغربی فوجی برتری کے اثرات، بیلسٹک دفاعی نظام (تھاد، آئیروناٹ) کی کامیابی یا ناکامی سے متاثر ہوں گے۔ ایران روسی ساختہ ایس۔300 ایس۔400 دفاعی میزائل سسٹم اور چینی ایڈوانسڈ ڈرونز سے خود کو دفاع کرتا رہتا ہے، جس سے علاقائی فضائی کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ ٹیکنالوجی، جاسوسی، سائبر وارفیئر، الیکٹرانک جنگیت اور انٹیلی جنس کنٹرول کا بگاڑ بڑھ سکتا ہے۔

اگر ایران حملے کا جواب مشاورتی یا پراکسی گروپوں کے ذریعے دے، تو سعودی عرب اور مصر ایندھن نقل و حمل کی شِپس اور مشینی ڈھانچہ نشانہ بن سکتے ہیں۔ یمن میں جہاز رانی کو متاثر کرنے سے، عالمی تجارت متاثر ہو گی، اسی طرح بحیرہ احمرکے راستے میں جنگی کارروائیوں سے نقصان پہنچے گا۔

معیشتیں شدید جھٹکے کھائیں گی اور گلوبل پالیسی محاذ پر تیل تاجروں کی حکمت عملی میں تبدیلیاں آئیں گی۔ میڈیا اور پروپیگنڈا میں جنگی ماحول شدت اختیارکرے گا، ہر فریق خود کو مظلوم ثابت کرنے کی کوشش کرے گا۔ انسانی حقوق، معصوم شہریوں کی ہلاکت کا خود رپورٹ ہونا بھی عالمی برادری کی توجہ کا مرکز بنے گا۔ اس سے اقوام متحدہ، یورپی یونین، عرب لیگ اور اسلامی ممالک کے اندر ہنگامی اقدامات اور امدادی وابستگی کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

اس کے باوجود، ایک سنجیدہ زمینی جنگ یا پوری جنگ مذاکرات حادثات، غلط فہمیوں یا فوجی سیکیورٹی کے غلط اندازے سے شروع ہو سکتی ہے۔ اگر ایسی صورتحال اُبھرتی ہے، تو عالمی طاقتوں کا جنگ بندی کے لیے دباؤ اپنی آخری حد کو چھو جائے گا۔ دنیا کی سیاست میں نئے بلاکس تشکیل پا سکتے ہیں۔

ایک مثبت متبادل راستہ مذاکرات کا ہے۔ امریکا، چین، روس، یورپی یونین، اور ایران کے درمیان براہ راست یا بالواسطہ مذاکرات سے صورتِ حال کا حل ممکن ہے۔ ایران پر پابندیاں نرم کرنے کے عوض عالمی اور علاقائی سیکیورٹی کے حوالے سے ضمانتیں حاصل کی جا سکتی ہیں۔ مذاکراتی فریم ورک ایک منظم حل فراہم کر سکتا ہے، جس میں ایران کی جوہری تنصیبات کا عالمی نگرانی میں واپس آنا، پابندیوں کا جزوی خاتمہ اور علاقائی طاقتوں کے مابین اعتماد سازی شامل ہو۔

ایران ، اسرائیل تنازعہ میں سیاسی میڈیا اور عمومی رائے جائز ہے، لیکن سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ فوجی حل کبھی مستقل امن یا استحکام لانے والا نہیں رہا۔ 2015 کا جوہری معاہدہ (JCPOA) اس کی مثال ہے کہ کس طرح مذاکرات قائم ہونے سے اصولی طاقت کے تبادلے ممکن ہیں۔ اب ضرورت ہے کہ نئی حکمت عملی قومی سلامتی کے اندر مذاکراتی محاذ کو ترجیح دے، تاکہ خطرات کا دائرہ محدود رہے اور انسانی معاشرے کو نقصان نہ پہنچے۔

مجموعی طور پر اگرچہ ایران پر امریکی حملہ کچھ وقتی مظاہر میں امریکا کی دفاعی حکمتِ عملی کی کامیابی کا تاثر دے سکتا ہے، مگر اس کے طویل المدتی اثرات عالمی عدم تحفظ اور خطے میں انتشار کی راہ ہموار ہو گی۔ اس کے برعکس، ایک جامع، محتاط اور مذاکراتی رویہ عالمی استحکام، اقوامِ متحدہ کی حرمت و سلامتی اور انسانی حقوق کے تحفظ میں مؤثر ثابت ہو گا۔ اگرچہ ہر ریاست اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کی خواہاں ہے، لیکن عالمی اور علاقائی ذمے داری کے تحت عالمی قوانین کی پاسداری اور کشیدگی کم کرنے کی حکمت عملی ہر صورت اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: قیمتوں میں اضافے اقوام متحدہ کی جوہری تنصیبات یورپی یونین تنصیبات پر ہو سکتی ہے متاثر ہو ایران کی سکتا ہے جائے گا

پڑھیں:

امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے

اسکردو (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 02 جون 2026ء ) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اسکردو کے مین بازار میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابی مہم میں آپ کے پاس آیا تھا اور جی بی کی ہر تحصیل میں گیا اور پورے جی بی کا دورہ کیا اور اسی وقت سے کہہ سکتا ہوں کہ جتنا جی بی میں نے دیکھا ہے وہ کسی سیاستدان نے نہیں دیکھا۔

ساری جماعتوں کے دورے ملا کر بھی ہمارے دوروں کے مقابلے میں کم ہیں۔ ہمارا صرف سیاسی رشتہ نہیں بلکہ نسلوں کا ساتھ ہے۔ میں یہ مہم بھی گزشتہ انتخابی مہم کی طرح کرنا چاہتا تھا۔ گزشتہ انتخابات میں خوشی کو ماحول تھا لیکن اب ہم سب کے لئے غم کا ماحول ہے۔ ایران میں جو شہادتیں ہوئیں ہیں، بچیوں کو شہید کیا ہے یہ غم کا ماحول ہے۔

(جاری ہے)

جس طرح رمضان میں آیتہ اللہ خامنئی کو ان کی نواسی کے شہید کیا گیا وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی امن پسند اور جنگ کے خلاف ہے۔ یہ کہانی ایران تک نہیں فلسطین اور لبنا ن میں بھی بے گنا ہ لوگوں شہید کیا گیا۔ فیلڈ مارشل امن کی جو کوشش کر رہے ہیں ہیں ہم سب دعاگو ہیں کہ یہ کوشش کامیاب ہو ۔ پوری مسلم دنیا اور دنیا بھر کے نوجوان اس جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اس جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بے تحاشہ بڑھ گئی ہے اس لئے ہم اس جنگ کو ختم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی سیاست باقی جماعتوں سے مختلف ہے۔ ہم پسماندہ طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کو حقوق دیتے ہیں اور غریب کا سوچتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کی ترقی پسماندہ طبقے کی ترقی سے ہے۔ باقی جماعتیں امیروں کو مزید امیر بنانے کی پالیسی اختیار کرتے ہیں اور اسے نام ترقی کا دیا جاتا ہے۔ کسانوں، مزدوروں، نوجوانوں کی ترقی اصل ترقی ہے۔

قائد عوام شہید ذوالفقار بھٹو نے کسانوں کو زمین مہیا کی۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے لئے عوام کا نعرہ تھا “بینظیر آئے گی، روزگار لائے گی”۔ صدر زرداری نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں بی آئی ایس پی بنا کر روٹی، کپڑا اور مکان کو عملی شکل دی۔ بطور وزیرخارجہ مجھ سے دوسرے ممالک پوچھتے تھے کہ ہم بی آئی ایس پی کے ذریعے اپنے غریبوں کی بھی مدد کرنا چاہتے ہیں۔

بدقسمتی اس ملک کی یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ایسی ہیں کہ وہ سوچتی ہیں کہ اپنے امیر دوستوں کے لئے مراعات کیسے دیں اور وہ بی آئی ایس پی کی غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بی آئی ایس پی کی مدد پورے ملک کے غریب عوام کو ملتی ہے۔ ماﺅوں کی دعاﺅں کی وجہ سے ان کی بی آئی ایس پی کوختم کرنے کی سازش ناکام ہوگی۔ وزیراعظم آنے والے بجٹ میں بی آئی ایس پی میں اضافے کا اعلان کریں گے۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی نے ملک کی دفاعی صلاحیت مضبوط کی ہے۔ اس وقت پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے اور کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا۔ یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے تحفہ دیا ہے۔ وہ گڑھی خدا بخش سے پاکستان کا دفاع کر رہے ہیں۔ شہید بی بی نے میزائل ٹیکنالوجی دی کہ وہ اس بم کو لے کر دشمن تک پہنچ سکتے ہیں۔

آج پاکستان کا دفاع اسی وجہ سے ناقابل تسخیر ہے۔ اس کے بعد مشرف کا دور گزرا کہ جب دوسرے ممالک کو Bases بنانے کی اجازت دی گئی۔ صدر زرداری نے سلالہ واقعے کے بعد سارے Bases کو بند کیا۔ جب حال ہی میں مختلف ممالک میں بم دھماکے ہو رہے تھے تو میں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے بم اور شہید بی بی کا ذکر کروں گا تو صدر زرداری کو بھی خراج تحسین پیش کروں گا۔

ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ہر لحاظ سے مضبوط ہو صرف پی پی پی ہی معاشی طور پر یہ کام کر سکتی ہے۔ یہ تین نسلوں کی جدوجہد ہے۔ شہید ذوالفقارعلی بھٹو نے سرداری نظام ختم کیا۔ FCR کا خاتمہ کیا۔ قائدعوام نے بلتستان کی سرزمین پر کھڑے ہو کر اعلان کیا تھا کہ گھاس کھائیں گے لیکن ایٹم بم بنائیں گے۔ گندم اور پٹرول پر سبسیڈی قائدعوام نے دی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ سب کچھ جدوجہد سے حاصل کیا۔

جی بی کو پہلے ناردرن ایریا کہتے تھے صدر زرداری نے جی بی کا نام دیا۔ اب ہم نے مل کر جدوجہد کرکے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کرنا ہے۔ ہمیں تین اصولوں حق حاکمیت ، حق ملکیت اور حق روزگار پر عمل کرنا ہوگا۔ یہ تب ہوگا جب اٹھارہویں ترمیم کے مطابق دیگر صوبوں کی طرح حقوق جی بی کو بھی ملیں۔آپ کے پہاڑوں کے نیچے جو وسائل ہیں ان پر حق جی بی کے عوام کا ہے۔

وسائل پر پہلا حق جی بی کے عوام ہے اور اگر یہ حق ملکیت مل جائے تو پاکستان کی ترقی ہوگی جس طرح تھر کے کوئلے سے پورا پاکستان مستفید ہو رہا ہے۔ شہید بی بی نوے کی دہائی میں یہ منصوبہ شروع کرنا چاہتی تھیں لیکن اس کے راستے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔ ہم نے یہ منصوبہ 2015 میں شروع کیا اور اس منصوبے کے سربراہ سندھ کے وزیراعلیٰ کو بنایا۔ اس منصوبے میں روزگار کا 80 فیصد تھر کے عوام کو دیا گیا۔

تھر کے منصوبے سے تھرکے عوام کو مفت بجلی دیتے ہیں۔ ہم نے تھر کے عوام کو تھر کول منصوبے میں ان کا شئیر دینا چاہا لیکن ان لوگوں نے پیسے لے لئے لیکن آپ کو اپنے وسائل میں شیئر لینا چاہیے۔ CPEC کا سب سے بڑا منصوبہ تھرکو ل کا ہے۔ جب آپ کو حق ملکیت ملے گا تو آپ وسائل کے حصہ دار ہوں گے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم ملازمتوں کے مواقع پیدا کریں لیکن دوسرے لوگ غریبوں کا روزگار چھینتے ہیں۔

یہ سمجھتے ہیں کہ امیر کو اور امیر بنائیں گے تو وہ نوکریاں دیں گے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ ہماری سیاست عوام دوست اور غریب دوست ہے جبکہ دیگر لوگوں کی سیاست غریب دشمن اور امیردوست ہوتی ہے۔ اس لئے تیر پر مہر لگا کر غریب دوست حکومت بنائیں۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا میں جانتا ہوں کہ آپ کے ہاں بارشوں اور سیلاب سے بہت نقصان ہوتا ہے۔

سندھ میں بھی 2022 میں سیلاب آیا اور دو تہائی سندھ پانی کے نیچے چلا گیا۔ اس وقت سارے غریب لوگ مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں گھر بنا کر دئیے جائیں۔ یہ پاکستان کی پہلی حکومت جس نے غریب لوگوں کو گھر بنا کر دئیے۔ میں کسی صوبے سے نہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرتا ہوں اور 20 لاکھ گھر بنانے بنانے کا منصوبہ دنیا میں سب سے بڑا منصوبہ ہے اور یہ گھر موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔

خواتین کو ان گھروں کا مالک بنایا اور زمین کی یہ منتقلی قائد عوام کے بعد سب سے بڑا منصوبہ ہے کیونکہ یہ زمین بھی خواتین کے نام کر رہے ہیں۔ 7 جون کو تیر پر مہر لگائی تو اسی طرح جی بی کی خواتین کو بھی گھر بنا کر دیں گے۔ ہم غریب اور عوام دوست ہیں اسی لئے بی آئی ایس پی اور گھروں کا منصوبہ دیتے ہیں ۔ سندھ میں ہسپتال بنائے، سندھ کا این آئی سی وی ڈی، این آئی سی ایچ، ایس آئی یوٹی اور ڈاﺅ میڈیکل کالج سے لے کر گمبٹ تک دل ، گردے، کینسر اور جگر کا علاج پورے پاکستان کے عوام کو مفت مہیا کرتے ہیں۔

دیگر صوبے ہسپتالوں کی نجکاری کرتے ہیں تاکہ ان کے امیر دوستوں کو فائدہ ہو۔ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو علاج سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 7جون کو انشااللہ جی بی کے عوام باہر نکلیں گے اور تیر پر مہر لگاکر پیپلزپارٹی کی حکومت بنائیں گے تاکہ حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار، مفت علاج کے ادارے اور گھر بنانے کا منصوبہ شروع ہو سکے۔

ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے جی بی کے عوام کی خدمت کریں گے اور آپ کو معاشی طور پر مضبوط کریں گے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں انہوں نے ڈاکٹر مبشر حسن کو ایک تحقیق کرنے کو کہا تھا جس سے 70 کی دہائی میں یہ بات سامنے آئی کہ جی بی میں ہم 50ہزار میگا واٹ بجلی بنا سکتے ہیں جو ہم بنا کر دکھائیں گے۔ یہ منصوبہ اسلام آباد میں کوئی بیوروکریٹ نہیں ہم اور آپ مل کر بنائیں گے اور اسلام آباد کو بجلی بیچیں گے۔

7تاریخ کو اس صوبے کے عوام کو سوچنا ہے کہ آپس میں لڑ کر کسی اور کو فائدہ نہ پہنچائیں۔ پی پی پی کو بھاری اکثریت ملتی ہے تو ہم مسائل حل کر سکتے ہیں۔ ہم نے سکردو کو وزیراعلی اور گورنر دیا۔ یہ صرف مہدی شاہ کی عزت نہیں بلکہ سکردو کے عوام کی عزت ہے۔ اب میدان میں نئی نسل آگئی ہے اور آپ کے ووٹ اور ساتھ کی وجہ سے توقیر شاہ کو سکردو 1 سے جتوائیں گے۔

آپ سکردو 2 میں محمد علی شاہ کو ووٹ دیںسکردو 3 سے فدا محمد ناشاد کو جتوانا ہے۔ اسکردو4 میں راجہ ناصر علی خان کو منتخب کرنا ہے۔ خرمنگ کے اقبال حسین کو جتوانا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں شگر سے عمران ندیم کو نہیں جیتنے دیا گیا تھا لیکن اس مرتبہ انہیں جتوانا ہے اور گھانچے1 سے ڈاکٹر عاشق حسین کو منتخب کرنا ہے۔ گھانچے 2 میں میری امیدوار آمنہ انصاری ہیں اور گھانچے 3 میں انجینئر محمد اسماعیل ہیں۔

میں چاہتا ہوں کہ انجینئر محمد اسماعیل کے حلقے سے جی بی ہاﺅسنگ اینی شئیٹو شروع کروں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تمام امیدواروں سے ہاتھ کھڑے کروا کر وعدہ لیا کہ وہ منتخب ہوکر عوام کی خدمت کریں گے۔ انہوں نے عوام سے بھی وعدہ لیا کہ 7جون کو تیرپر مہر لگائیں تاکہ شہید قائد عوام اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کیا جا سکے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ آصفہ بی بی کو لے کر سکردو آئے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ جس طرح بلتستان کے عوام نے انہیں کبھی مایو س نہیں کیا اسی طرح بی بی آصفہ کو بھی مایوس نہیں کریں گے۔ خطاب کے آخر میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوام کے ساتھ مل کر پارٹی کے لئے نعرے لگوائے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان