قطر ہمارا بھائی،یہ حملہ قطر پر نہیں امریکی فوجی اڈوں پر کیا گیا ، ایرانی سپریم کونسل
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
قطر ہمارا بھائی،یہ حملہ قطر پر نہیں امریکی فوجی اڈوں پر کیا گیا ، ایرانی سپریم کونسل WhatsAppFacebookTwitter 0 23 June, 2025 سب نیوز
تہران (سب نیوز)ایرانی فوجی ترجمان نے کہا ہے کہ ایران پر کسی بھی حملے کا جواب دیے بغیر نہیں رہیں گے، ایران پر کیے گئے ہر حملے کابھرپور جواب دیا جائے گا۔
ایرانی فوج نے قطر کو پیغام دیا کہ ایران کے امریکی فوجی اڈوں پر حملوں سے ہمارے دوست اور برادرانہ ملک قطر کو کوئی خطرہ نہیں ہے
ایران کا کہنا ہے کہ اس نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں قائم امریکی ایئربیس العدید کو نشانہ بنایا۔ایران کی سپریم کونسل نے واضح کیا ہے کہ قطر ہمارا بھائی ہے اور یہ حملہ اس پر نہیں بلکہ امریکی افواج کو نشانہ بنانے کیلئے العدیہ اڈے پر کیے گئے ہیں۔
قبل ازیں قطر نے ایرانی حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب ہمیں ایران کو بھرپور جواب دینے کا حق حاصل ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمتحدہ عرب امارات کی ائیر سپیس خالی ہونا شروع، درجنوں پروازیں متبادل روٹس پر منتقل متحدہ عرب امارات کی ائیر سپیس خالی ہونا شروع، درجنوں پروازیں متبادل روٹس پر منتقل جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں ،قطر کی جانب سے امریکی فوجی اڈے پر ایرانی میزائل حملے کی مذمت ایران کا امریکی اڈوں پر حملہ، امارات میں پاکستانی سفارتخانے نے پاکستانیوں کیلئے ہدایات جاری کردی ایران، اسرائیل کشیدگی، وزیراعظم نے پیٹرولیم مصنوعات کے جائزے کیلئے کمیٹی قائم کردی آپریشن فتح کا اعلان ،ایران کے عراق ، قطر اور شام میں امریکی اڈوں پر میزائل حملے جمشید دستی نے بھری اسمبلی میں پی ٹی آئی رہنماوں کے سامنے زمین پر ناک رگڑ دیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: امریکی فوجی اڈوں پر
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔