پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، جنگ بندی کی خبر پر 5 ہزار سے زائد پوائنٹس کا اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کے روز ایک بار پھر خریداری کا رجحان دیکھنے میں آیا، جب سرمایہ کاروں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کا خیرمقدم کیا کہ ایران اور اسرائیل جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں۔
اس مثبت خبر کے بعد مارکیٹ کے بینچ مارک کے ایس سی 100 انڈیکس میں دن کے دوران 5 ہزار سے زائد پوائنٹس کا شاندار اضافہ دیکھنے میں آیا، صبح 10 بج کر 40 منٹ پر کے ایس سی 100 انڈیکس 121,220.
مارکیٹ میں تمام اہم شعبوں میں وسیع پیمانے پر خریداری دیکھی گئی، جن میں آٹو موبائل اسمبلرز، کمرشل بینکس، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں، بجلی پیدا کرنے والے ادارے اور ریفائنری شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:
انڈیکس میں وزن رکھنے والے نمایاں شیئرز جیسے کہ حبکو، اے آر ایل، ایس ایس جی سی، پی ایس او، ماڑی، او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل، پی او ایل، یو بی ایل اور ایچ بی ایل سبز نشان میں ٹریڈ کرتے نظر آئے۔
ماہرین کے مطابق ایران اور اسرائیل کے مابین سیز فائر کے اعلان اور بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 3 سے 4 فیصد کمی نے مارکیٹ میں تیزی کو جنم دیا ہے اور مارکیٹ کا تاثر ہے کہ اب جغرافیائی طور پر سیاسی صورتحال قابو میں آ جائے گی۔”
واضح رہے کہ پیر کے روز امریکی حملے کے بعد ایران کے ساتھ کشیدگی کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا تھا، اورکےایس سی 100 انڈیکس 3,855.77 پوائنٹس یا 3.21 فیصد کمی کے ساتھ 116,167.47 پر بند ہوا تھا۔
مزید پڑھیں:
بین الاقوامی سطح پر بھی منگل کے روز جنگ بندی کی خبر کے بعد عالمی اسٹاک مارکیٹس میں تیزی دیکھی گئی جبکہ ڈالر کی قدر میں کمی ہوئی اور تیل کی قیمتوں میں نمایاں گراوٹ آئی، کیونکہ سپلائی میں رکاوٹوں کے خدشات کم ہو گئے۔
ایرانی حکام کی جانب سے جنگ بندی پر پر رضامندی کی تصدیق کی گئی، تاہم ایران کے وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ جب تک اسرائیل حملے بند نہیں کرتا، جنگ بندی ممکن نہیں۔
تیل کی قیمتوں میں پیر کے روز 9 فیصد کمی کے بعد مزید 3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، کیونکہ ایران کی جانب سے امریکی بیس پر محض علامتی جوابی کارروائی نے ظاہر کر دیا کہ فی الحال وہ مزید حملوں سے گریز کرے گا۔
مزید پڑھیں:
امریکی خام تیل کی قیمت 3.4 فیصد کمی کے بعد 66.15 ڈالر فی بیرل تک آ گئی، جو 11 جون کے بعد کم ترین سطح ہے۔
اس پیش رفت کے بعد دنیا بھر میں رسک اثاثوں کی مانگ میں اضافہ ہوا، ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 0.6 فیصد اور نیس ڈیک فیوچرز میں 0.9 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
یورپی مارکیٹوں میں یورواسٹاک 50 فیوچرز 1.3 فیصد اور ایف ٹی ایس سی فیوچرز 0.4 فیصد اوپر رہے، جبکہ ایم ایس سی آئی کا ایشیا پیسفک انڈیکس 1.8 فیصد اور جاپان کا نکی انڈیکس 1.4 فیصد بڑھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
100 انڈیکس امریکی خام تیل پاکستان اسٹاک ایکسچینج جنگ بندی ڈالر ڈالر فی بیرل کےایس سی یورواسٹاک
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 100 انڈیکس امریکی خام تیل پاکستان اسٹاک ایکسچینج ڈالر ڈالر فی بیرل کےایس سی یورواسٹاک پاکستان اسٹاک ایکسچینج فیصد کمی فیصد ا تیل کی ایس سی کے روز کے بعد
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔