پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
پشاور کے علاقے ارباب لنڈی میں 8 سالہ بچی کو مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا گیا۔ بچی کی لاش 3 روز بعد ایک قریبی گھر کے صندوق سے برآمد ہوئی۔ پولیس نے مشتبہ ملزم کو گرفتار کرلیا ہے۔
پولیس کے مطابق مقتولہ بچی معمول کے مطابق مدرسے کے لیے گھر سے نکلی تھی، تاہم واپس نہ لوٹی، جس کے بعد والدین نے گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی۔ 3 روز تک علاقے میں تلاش جاری رہی، مگر کوئی سراغ نہ ملا۔
بچی کے چچا کے مطابق، محلے میں موجود ایک اکیلا شخص جو تلاش میں بھی پیش پیش تھا، اس پر شک اس وقت گہرا ہوا جب اس کے گھر سے بدبو آنے لگی۔ اہل علاقہ نے گھر کی دیوار پھلانگ کر اندر داخل ہو کر تلاشی لی اور ایک بند صندوق سے بچی کی لاش برآمد کی گئی۔
مزید پڑھیں: نوشہرہ میں مدرسے کی طالبہ سے اجتماعی زیادتی: ’شور مچانے پر دیگر ملزمان بھاگ گئے’
پولیس کا کہنا ہے کہ بچی کے جسم پر تشدد کے نشانات موجود ہیں اور ابتدائی شواہد کے مطابق اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، حتمی رائے میڈیکل رپورٹ کے بعد سامنے آئے گی۔
پولیس نے بتایا کہ متاثرہ خاندان کا تعلق افغانستان سے ہے اور وہ کئی برس سے پشاور میں مقیم ہے۔ بچی کی والدہ پاکستانی ہیں۔ اہلِ علاقہ شدید غم و غصے میں ہیں اور مجرم کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
یہ واقعہ ملک میں بچوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم کی ایک اور افسوسناک کڑی ہے۔ بچوں کے حقوق پر کام کرنے والی تنظیم ’ساحل‘کے مطابق پاکستان میں روزانہ 11 بچے جنسی، جسمانی یا نفسیاتی جرائم کا شکار ہوتے ہیں، جن میں 53 فیصد بچیاں شامل ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 سالہ بچی ارباب لنڈی پشاور قتل، لاش صندوق سے برآمد مبینہ زیادتی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 8 سالہ بچی ارباب لنڈی پشاور قتل لاش صندوق سے برآمد مبینہ زیادتی کے مطابق کے بعد
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔