کوئٹہ مغربی بائی پاس پر پیٹرول سے لدی زرنج اور مسافر بس میں خوفناک تصادم کے بعد آگ بھڑک اٹھی، حادثے کے نتیجے میں 6 افراد جاں بحق اور 7 زخمی ہو گئے۔

پولیس کے مطابق حادثہ اُس وقت پیش آیا جب پیٹرول لے جانے والی زرنج (بلوچستان میں عام استعمال ہونے والی 3 پہیوں والی چھوٹی موٹر سائیکل گاڑی Three-Wheeler) لوکل مسافر بس سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں دونوں گاڑیوں میں آگ لگ گئی۔ شدید آتشزدگی کے باعث موقع پر ہی 6 افراد زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ 7 افراد جھلس کر زخمی ہو گئے۔

مزید پڑھیں: نوشکی میں تیل سے بھرے ٹرک میں آتشزدگی کا واقعہ، جاں بحق افراد کی تعداد 7 ہوگئی

لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر سول اسپتال کوئٹہ منتقل کر دیا گیا ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ پولیس اور ریسکیو اداروں نے جائے حادثہ کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ عینی شاہدین کے بیانات بھی قلمبند کیے جا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بس خوفناک تصادم زرنج کوئٹہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: خوفناک تصادم کوئٹہ

پڑھیں:

مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش

عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے  آیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے  فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔ 

انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں  زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔

بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے  مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین  تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر  رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق