بھارتی فلم انڈسٹری کی سب سے بڑی مزدور تنظیم ’فیڈریشن آف ویسٹرن انڈیا سین ایمپلائز (FWICE) نے پاکستانی اداکارہ ہانیا عامر کو فلم ‘سردار جی 3’ میں کاسٹ کرنے پر شدید ردعمل دیا ہے اور وزیراعظم نریندر مودی سے براہ راست کارروائی کی اپیل کی ہے۔

تنظیم نے فلم کے مرکزی اداکار و گلوکار دلجیت دوسانجھ، پروڈیوسرز گنبیر سنگھ سدھو، منموڑ سدھو اور ڈائریکٹر امر ہندال پر ملکی سلامتی، خود مختاری اور وقار کی توہین کا الزام عائد کیا ہے۔ ایف ڈبلیو آئی سی ای کی جانب سے وزیراعظم مودی کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ یہ صرف ایک تخلیقی فیصلہ نہیں، بلکہ بھارت کی سلامتی پر دانستہ حملہ ہے۔

خط میں ہانیا عامر کو اینٹی انڈیا پروپیگنڈا پھیلانے والی شخصیت قرار دیا گیا ہے، جس پر الزام ہے کہ وہ پاکستان کا دفاع کرتی رہی ہیں اور بھارتی مسلح افواج کی توہین کر چکی ہیں، خاص طور پر آپریشن سندور کے بعد۔ ایف ڈبلیو آئی سی ای نے مطالبہ کیا ہے کہ فلم ‘سردار جی 3’ کی بھارت میں نمائش پر پابندی لگائی جائے اور متعلقہ افراد کے پاسپورٹ منسوخ کیے جائیں۔

مزید پڑھیں: سردار جی 3 کا ٹریلر ریلیز، دلجیت دوسانجھ کے ساتھ ہانیہ عامر کی شمولیت سے مداح حیران

تنظیم نے بیان دیا ہے کہ یہ لوگ بھارت، اس کی سینما انڈسٹری اور شہیدوں کے خاندانوں کی توہین کے مرتکب ہوئے ہیں۔ ان کی بھارتی شہریت سے متعلق تمام مراعات واپس لی جائیں۔ ایف ڈبلیو آئی سی ای نے فلمی صنعت کے تمام اداروں، پروڈیوسر ایسوسی ایشنز، او ٹی ٹی پلیٹ فارمز، نمائش کنندگان اور ڈسٹری بیوٹرز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دلجیت دوسانجھ اور ان کی ٹیم سے تمام روابط منقطع کر دیں۔

بھارتی واویلے کے باوجود دلجیت دوسانجھ نے فلم کا ٹریلر اپنے انسٹاگرام پر جاری کیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ فلم 27 جون کو صرف بیرونِ ملک ریلیز کی جائے گی۔

مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں دہشتگرد حملے کے بعد ہانیا عامر، جو پاکستانی ڈرامہ اور سوشل میڈیا کی مقبول شخصیت ہیں، اس فلم میں ان کے کاسٹ ہونے کو بھارت میں سیاسی اور جذباتی معاملہ بنا دیا گیا ہے۔ ابھی تک دلجیت دوسانجھ یا ہانیا عامر کی جانب سے اس تنازع پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت دلجیت سنگھ دوسانجھ سردار جی 3 مودی ہانیا عامر.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارت دلجیت سنگھ دوسانجھ ہانیا عامر دلجیت دوسانجھ ہانیا عامر کیا ہے

پڑھیں:

نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا

 

 

بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

Huge crowd of students floods roads of Nashik.

Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY

— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026

ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘  کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔

دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج

یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک

متعلقہ مضامین

  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • گوجرانوالہ: ایجنٹ مافیا کے خلاف ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن، 15 گرفتار
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا