ایران کو شکست دینا ممکن نہیں، علامہ جواد نقوی
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
تحریک بیداری کے سربراہ نے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا "آج غزہ کے معصوم بچوں کا قاتل، خواتین کی عزتیں پامال کرنیوالا صہیونی درندہ، پوری امتِ اسلامیہ کا دشمن، عالمی سطح پر 'رول ماڈل' اور 'نوبیل انعام' کا امیدوار بنایا جا رہا ہے، یہ وہ زوال ہے جس پر خاموش رہنا، ظلم کا ساتھ دینا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک بیداری امتِ مصطفیٰ کے سربراہ، علامہ سید جواد نقوی نے کہا ہے کہ ایران کے پاس ایک طویل اور گراں قدر جنگی تجربہ ہے، جو دنیا کی دیگر طاقتوں کو حاصل نہیں۔ امریکہ اور اسرائیل جیسے جنگجو حکمران فوری نتائج اور جلد بازی میں فتح چاہتے ہیں، لیکن ایران نے صبر، مزاحمت اور طویل جنگ کی حکمتِ عملی سے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ ایران کا سب سے بڑا ہتھیار اس کا خود کفیل دفاعی نظام ہے، جو صرف اسلحہ سازی پر ہی نہیں، بلکہ فکری استقامت، دفاعی بصیرت اور اصولی استقلال پر بھی مبنی ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر عالمی سامراج اور صہیونی قوتیں بھی ایران کو شکست دینے میں ناکام رہی ہیں۔
علامہ جواد نقوی نے مزید کہا کہ ایران نے کبھی دنیا کے سامنے جھولی نہیں پھیلائی، نہ کسی طاقت سے مدد مانگی۔ اس حقیقت کا اعتراف خود روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے حالیہ بیان میں کیا۔ جب ایک صحافی نے ان سے سوال کیا کہ "کیا ایران نے آپ سے کسی قسم کی مدد مانگی؟" تو پیوٹن نے دوٹوک جواب دیا "ایران نے اس پوری جنگ کے دوران ہم سے ایک بار بھی کسی مدد کی درخواست نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ خود اعتمادی، خود کفالت اور نظریاتی خودمختاری دراصل مکتبِ ابراہیم و مکتبِ کربلا کی تربیت کا نتیجہ ہے۔ یہی مکتب ایران کو ایسا وقار، استقلال اور میدانِ جنگ میں غیر معمولی صبر عطا کرتا ہے کہ دنیا کی تمام جارح قوتیں مل کر بھی اسے زیر نہیں کر سکتیں۔
انہوں نے ان عناصر پر شدید تنقید کی جو اسلام کے دشمنوں کو عظمت کا مینار بنانے پر تُلے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا "جو آج ٹرمپ جیسے خبیث شخص کو نوبل انعام دینے کی سفارش کر رہے ہیں، وہ خود ٹرمپ سے بھی زیادہ پست، حقیر اور ذلت آلود سوچ رکھتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں موجود سیاسی گندگی پر بھی کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک میں سیاسی تعفن نے نہ صرف سیاستدانوں، بلکہ بعض ججز، بیوروکریٹس، جرنیلوں اور حتیٰ کہ بعض علماء کو بھی اس گندگی میں شامل کیا ہے۔ یہی بدبو ہے جو آج امتِ مسلمہ کے قاتلوں کو اعزاز دلوانے کی سازشوں تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا "آج غزہ کے معصوم بچوں کا قاتل، خواتین کی عزتیں پامال کرنیوالا صہیونی درندہ، پوری امتِ اسلامیہ کا دشمن، عالمی سطح پر 'رول ماڈل' اور 'نوبیل انعام' کا امیدوار بنایا جا رہا ہے، یہ وہ زوال ہے جس پر خاموش رہنا، ظلم کا ساتھ دینا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔