جے شنکر مہنگے سوٹ پہننے تک محدود ہیں، بھارتی صحافی کے مودی حکومت پر کڑے وار
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
نئی دہلی (نیوز ڈیسک)مودی سرکار کی سفارتی ناکامی اور گودی میڈیا کا مکروہ چہرہ معروف بھارتی صحافی نے بے نقاب کردیا۔
مودی حکومت اور گودی میڈیا کیخلاف بھارت سے ہی آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں۔ وہیں بھارتی صحافیوں نے بھی مودی سرکار کے پول کھولنا شروع کر دیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق معروف بھارتی صحافی روش کمار نے نریندر مودی کی سفارتی ناکامیوں اور گودی میڈیا کے پراپیگنڈے کا پول کھول دیا۔
روش کمار کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر ظاہری رکھ رکھاؤ اور مہنگے سوٹ پہننے تک محدود ہیں، اصل پالیسی میں کوئی جان نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جے شنکر ایران اسرائیل کشیدگی پر ایک لفظ بھی نہ بول سکے۔
بھارتی صحافی کا مزید کہنا تھا کہ ایران اسرائیل کشیدگی پر مودی کا بزدلانہ مؤقف، دنیا بھر میں بھارت کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
مزیدپڑھیں:میری مشاورت کے بغیر کے پی کا بجٹ منظور نہیں ہونا چاہیے تھا، عمران خان
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: بھارتی صحافی
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔