معروف بھارتی صحافی روش کمار نے مودی کی سفارتی ناکامیوں اور گودی میڈیا کے پراپیگنڈے کا پول کھول دیا۔

روش کمار نے مودی کی ناقص خارجہ پالیسی پر شدید تنقید کا اظہار کیا۔

مودی کے راج میں بھارت کی ناکامیوں کو بے نقاب کرتے ہوئے روش کمار کا کہنا تھا کہ ’’بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر ظاہری رکھ رکھاؤ اور مہنگے سوٹ پہننے تک محدود ہیں، اصل پالیسی میں کوئی جان نظر نہیں آتی۔

انہوں نے کہا کہ جے شنکر کی انگریزی تو شاندار ہے لیکن ایران اسرائیل کشیدگی پر وہ ایک لفظ نہ بول سکے، اسرائیل کے مظالم پر مودی سرکار یا گودی میڈیا کی خاموشی، بھارت کی جارحیت پسند پالیسیوں کی عکاسی کرتی ہے۔ ایران اسرائیل کشیدگی پر بھارت کا بزدلانہ مؤقف، دنیا بھر میں اس کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

مودی کے گودی میڈیا اور سرکاری پراپیگنڈے پر روش کمار کا کہنا تھا کہ ’’گودی میڈیا ایران کو بھی مسلم مخالف نظریے سے دیکھ رہا ہے۔ گودی میڈیا ایران اسرائیل کشیدگی کو اسی نظریے سے دکھا رہا ہے جیسے مودی کے راج میں پچھلے 11 سال سے بھارتی مسلمانوں کو دکھاتا آیا ہے۔‘‘

روش کمار نے کہا کہ آپریشن سندور کے دوران بھی گودی میڈیا کی جانبدار کوریج نے بی جے پی کے حامیوں کو بھی شرمندہ کیا، بھارتی میڈیا کی جانب سے ایران اسرائیل جنگ کے مسئلے کو صرف مذہبی تصادم کے طور پر پیش کیا گیا۔

نام نہاد جمہوریت کی دعویدار مودی سرکار اور گودی میڈیا، اسرائیلی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموش تماشائی ثابت ہوئی۔ مودی کے بھارت کی خارجہ پالیسی اب نظریاتی نہیں بلکہ صرف موقع پرستی پر مبنی اور مغربی طاقتوں کی غلام ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایران اسرائیل گودی میڈیا مودی کے

پڑھیں:

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے  ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔

کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟