واٹس ایپ دیگر ایپس کے مقابلے میں زیادہ مضبوط سیکیورٹی فراہم کرتا ہے، میٹا
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
ترجمان نے مزید بتایا کہ سی اے او کی جانب سے جن متبادل ایپس کی سفارش کی گئی ہے ان میں بھی اس طرح کی اعلیٰ ترین سکیورٹی کا نظام موجود نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ میٹا کے ترجمان نے اس فیصلے سے سخت اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ واٹس ایپ دیگر منظور شدہ ایپس کے مقابلے میں زیادہ مضبوط سیکیورٹی فراہم کرتا ہے۔ یاد رہے کہ رواں سال جنوری میں واٹس ایپ کے ایک عہدیدار نے انکشاف کیا تھا کہ اسرائیلی اسپائی ویئر کمپنی پیراگون سولیوشنز نے درجنوں صارفین کو نشانہ بنایا، جن میں صحافی اور سول سوسائٹی کے افراد شامل تھے۔ ایوانِ نمائندگان اس سے قبل بھی سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر دیگر ایپس، جیسے کہ 2022 میں ٹک ٹاک پر سرکاری ڈیوائسز پر پابندی لگا چکا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ ہم سی اے او کے بیان کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔ ترجمان کے مطابق ہم جانتے ہیں کہ کانگریس اراکین اور عملے کی جانب سے واٹس ایپ کا استعمال اکثر کیا جاتا ہے، واٹس ایپ میسجز کو بائی ڈیفالٹ اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کا تحفظ حاصل ہے، یعنی صرف بھیجنے اور موصول کرنے والا ہی پیغامات کو دیکھ سکتا ہے، واٹس ایپ کمپنی کو بھی ان تک رسائی حاصل نہیں۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ سی اے او کی جانب سے جن متبادل ایپس کی سفارش کی گئی ہے ان میں بھی اس طرح کی اعلیٰ ترین سکیورٹی کا نظام موجود نہیں۔ اس سے قبل سی اے او کی جانب سے دیگر ایپس کا استعمال نہ کرنے کی ہدایت بھی کی گئی تھی۔ ان ایپس میں چیٹ جی پی ٹی، ٹک ٹاک، ڈیپ سیک اور مائیکرو سافٹ کو پائلٹ قابل ذکر ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کی جانب سے واٹس ایپ سی اے او
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔