جہانگیر ترین کا پیپلزپارٹی میں آنا ایک نیک شگون ؛یوسف رضا گیلانی
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
سٹی 42: چئیرمین سینٹ یوسف رضا گیلانی نے میڈیا ٹاک کرتے ہوئے اعلان کیا کہ جہانگیر ترین میرے بھائی اور قریبی عزیز ہیں
یوسف رضا گیلانی نے کہا جہانگیر ترین کا پیپلزپارٹی میں آنا ایک نیک شگون ہوگا،جہانگیر ترین کے آنے سے پیپلزپارٹی مزید مضبوط ہوگی،
چیئرمین سینٹ یوسف رضا گیلانی نے کہا پنجاب صرف لاہور نہیں ہے یہ ایک بہت بڑا صوبہ ہے،پنجاب بارہ کروڑ کی آبادی کا صوبہ ہے کئی ممالک اس سے چھوٹے ہیں،ساوتھ پنجاب میں خاصی پسماندگی اور بےروزگاری بھی ہے،ساوتھ پنجاب میں لوگوں میں لاعلمی بھی ہے اور تعلیم کی کمی بھی ہے،پنجاب حکومت کو مثاوی طور پر سنٹرل پنجاب میں بھی حقوق دینے چاہیے،
بلاول بھٹو زرداری ہماری پارٹی کے چئیرمین ہیں،بلاول بھٹو کی ٹریننگ ان کی والدہ بےنظیر کی سرپرستی میں ہوئی ہے،صدر پاکستان اور وزیراعظم نے بیرون ملک بلاول بھٹو کی قیادت میں جو ٹیم بھیجی انہوں نے موثر قرار ادا کیا ہے،بھارت کے پاکستان پر دہشت گردی کے بیانیے کو پوری دنیا نے رد کیا ہے،بھارت کے ساتھ ہمارا بڑا مسئلہ پانی کا ہے،بھارت نے پانی بند کیا تو اسے اعلان جنگ تصور کیا جائے گا،پانی اور دہشت گردی کے بھارتی بیانیے کو موثر طریقے سے عالمی سطع پر بلاول بھٹو زرداری نے رد کیا،بلاول بھٹو نے دنیا پر واضع کیا کہ پہلگام واقع پر پاکستان نے تحقیات آفر کی ہے
پاکستان انڈیا چائینہ اور روس نیوکلیر پاور ہیں،پاک بھارت جنگ ختم نہ ہوتی تو یہ تیسری عالمی جنگ کی صورت اختیار کر جاتی،دو ایٹمی طاقتوں کو جنگ سے روکنے کےلیے ٹرمپ نے اہم کردار ادا کیا،حکومت کےلیے سب سے بڑا چیلنج عوام کو ریلیف دینا ہے،عوام کو ریلیف دینا بہت مشکل کام ہے،
عوامی ریلیف کےلیے حکومت کو آئی ایم ایف کی شرائط کا سامنا ہے،یوکرائن روس اور اسرائیل ایران جنگ سے پٹرول مصنوعات کی قیمتیں متاثر ہوئی ہیں،بانی پی ٹی آئی کے کیسز عدالتوں میں زیرسماعت ہیں،پی ٹی آئی نے بجٹ میں ووٹ نہ دینے کےلیے سینٹ اسمبلی میں رابطہ نہ کیا ہے،تحریک انصاف نے ہوسکتا ہے بجٹ میں ووٹ کےلیے قومی اسمبلی میں رابطہ کیا ہو،
صدر مملکت کا 11 بھارتی پراکسی دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنے پر سیکورٹی فورسز کو خراج تحسین
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: جہانگیر ترین رضا گیلانی بلاول بھٹو
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔