ایران سے مزید حملوں کا خطرہ ٹل گیا، اسرائیلی فوج کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT
یروشلم (اوصاف نیوز)ایران اسرائیل سیز فائر کے بعد اسرائیلی فوج کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ ایران سے مزید حملوں کا خطرہ ٹل گیا،شہری اب پناہ گاہوں سے باہر نکل سکتے ہیں۔
ایران نے آخری حملے میں اسرائیل پر 10 سے 15 میزائل داغے،میزائل گرنے سے بیر سبع میں ایک عمارت تباہ ہوگئی،ایرانی حملے کے نتیجے میں 6 افراد ہلاک، متعدد زخمی ہوئے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا آج کی ڈیل بی ٹو پائلٹس کی جراتمندی کے بغیر نہیں کرسکتے تھے،اس آپریشن سے وابستہ تمام لوگوں کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا، ایک درست حملہ تمام لوگوں کو ڈیل کیلئے مل بیٹھنے پر مجبور کیا۔
ہانیہ عامر کی کاسٹنگ پر تنقید کرنے والوں کو دلجیت نے آڑے ہاتھوں لے لیا
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔